بیوی کو دیا تحفہ واپس نہیں لیا جا سکتا، یہ تھوک کر چاٹنے والی بات ہے، جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
بیوی کو دیا تحفہ واپس نہیں لیا جا سکتا، یہ تھوک کر چاٹنے والی بات ہے، جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس WhatsAppFacebookTwitter 0 23 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے فیملی کورٹ کے فیصلے کیخلاف شہری کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ بیوی کو دیا گیا تحفہ بھی واپس نہیں لیا جا سکتا، یہ تو تھوک کر چاٹنے والی بات ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف شہری محمد شعبان کی درخواست سماعت کی۔جسٹس محسن اختر کیانی کے فیملی کیس میں اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بیوی کو دیا گیا تحفہ واپس نہیں لیا جا سکتا، یہ تو تھوک کر چاٹنے والی بات ہے، دیا ہوا تحفہ واپس نہیں لیا جاتا، ایسی کوئی روایت نہیں اور اسلام بھی اس کی اجازت نہیں دیتا۔
بیوی سے علیحدگی کے بعد شہری نے سابقہ بیوی سے زیورات کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔ شہری نے جج فیملی کورٹ فیصلہ کے خلاف درخواست دائر کر رکھی ہے۔عدالت نے فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرہم مذاکرات چاہتے ہیں مگر کوئی ہٹ دھرمی پر اڑا ہو تو پھر کیا کرسکتے ہیں، رانا ثنا اللہ ہم مذاکرات چاہتے ہیں مگر کوئی ہٹ دھرمی پر اڑا ہو تو پھر کیا کرسکتے ہیں، رانا ثنا اللہ بنگلادیشی آرمی میں اعلی سطح پر بڑی تبدیلیاں، چیف آف جنرل اسٹاف بھی تبدیل پے در پے حادثوں کے بعد بھارتی فضائیہ نے تمام تیجس لڑاکا طیاروں کو گراونڈ کردیا سپریم کورٹ کے باہر پاکستان تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ کا احتجاج پشاور میں چاند دیکھنے کیلئے رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس پر 20لاکھ روپے اخراجات کا انکشاف چیئرمین سی ڈی اے کا سیکٹر ایچ نائن میں قائم رمضان سہولت بازار کا دورہ،اشیا خوردونوش کی ارزاں نرخوں پر فراہمی اور کوالٹی کا...
Copyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جسٹس محسن اختر کیانی بیوی کو دیا
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔