ملازمین کی عدم مستقلی سیاسی وکٹامائزیشن ہے، نئی بھرتی کا مطلب حکومت اپنے بندے رکھےگی،جسٹس محسن کیانی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے فیز تھری کے سینکڑوں ملازمین کی مستقلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے ملازمین کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ مستقل تقرریاں کیوں نہیں کی جا رہیں، یہ ایک سیاسی ویکٹمائزیشن ہے، یہ بھی شہری ہیں وہ بھی شہری ہیں، حکومت کن کو رکھ رہی ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے سوال اٹھایا کہ حکومت بار بار کنٹریکٹ پر بھرتی کیوں کر رہی ہے، 402 پوسٹوں پر نئی بھرتی کا مطلب ہے کہ اب جو رجیم ہے وہ اپنے بندے رکھے گی۔
عدالت نے کہا کہ ایک بندے کو نوکری پر رکھ کر پانچ دس سال بعد تیس دن کے نوٹس پر فارغ کر دیا جاتا ہے، اگر بھرتی کر کے کنٹریکٹ پر رکھ کر کام بھی لیا جا رہا ہے اور تجربہ بھی ہو رہا ہے تو مستقل کیوں نہیں کیا جا رہا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ قانون نہیں بنایا جا رہا، ہر کیس میں عدالتی حکم کے بعد آٹھ دس ماہ میں رولز بنتے ہیں، پورے سسٹم میں عدالت پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے، عام شہری پس رہے ہیں، ان کا کیا قصور ہے۔
درخواست گزار اپنے وکیل افنان کریم کنڈی کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن بھی عدالت میں موجود تھے۔
وکیل درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ این سی سی آئی اے کو میٹنگ اور رولز بنانے کی ہدایت دی گئی تھی، ٹیسٹ اور انٹرویو سمیت ریکروٹنگ کے تمام تقاضے پورے کر کے 2018 میں بھرتی کیا گیا، بعد ازاں کنٹریکٹ میں توسیع ہوتی رہی، 31 اگست 2023 کو آخری بار توسیع دی گئی، جنوری 2023 میں حکومت سے 402 پوسٹوں پر مستقل بھرتی کی اجازت مانگی گئی، آخری لیٹر میں مستقلی کا کہا گیا لیکن عمل نہیں ہوا۔
اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ملازمین آج بھی کام کر رہے ہیں اور تنخواہ بھی مل رہی ہے، رولز نہیں ہیں اس لیے مستقل نہیں کیا جا سکتا، این سی سی آئی اے ڈرافٹ پر کام کر رہی ہے، وقت دیا جائے اور آئندہ سماعت پر تحریری جواب جمع کرا دیا جائے گا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ آج کے دور میں کسی کو بیروزگار کرنے سے بڑا ظلم کوئی نہیں، رولز نہ ہونے کی وجہ سے یہ ملازمین اسی طرح کام کر رہے ہیں اور ڈی پی سی میں بھی شامل نہیں ہو سکتے۔
سماعت کے اختتام پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا، سماعت کے اختتام پر جسٹس محسن اختر نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کیا کہ یہ ملازمین آج یہاں کیوں ہیں یہ آفس کیوں نہیں گئے۔
وکیل افنان کریم کنڈی نے کہا کہ یہ ڈرے ہوئے ہیں کہ انکو فارغ کردیا جائے گا جیسے دیگر کا کنٹریکٹ نہیں بڑھایا گیا ، یہ خود آکر عدالت میں سماعت سننا چاہتے تھے کہ عدالت میں کیا ہو رہا ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ یعنی انکی بدعائیں بھی میرے کھاتے میں ہونگیں، عدالتی ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جسٹس محسن اختر کیانی نے عدالت میں نے کہا کہ عدالت نے رہا ہے رہی ہے جا رہا
پڑھیں:
محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
(اویس کیانی)نیشنل پولیس اکیڈمی کے اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر کام تیزی سے جاری ہے، ایلیٹ ٹریننگ سکول میں ریپلنگ ٹاور پر 80 فیصد، جاگنگ ٹریک اور آبسٹیکلز پر 70 فیصد کام مکمل کر لیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ کیا۔
اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اپ گریڈیشن پراجیکٹ سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا، جس میں نیشنل پولیس اکیڈمی کی اپ گریڈیشن کے سلسلے میں جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
نیشنل پولیس اکیڈمی کے اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر کام تیز
ایلیٹ ٹریننگ سکول میں ریپلنگ ٹاور پر 80 فیصد،جاگنگ ٹریک اور آبسٹیکلز پر 70 فیصد کام مکمل
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ، اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر پیش رفت کا جائزہ لیا pic.twitter.com/PSzCboerya
اجلاس میں ایلیٹ سکول کی فائرنگ رینج اور باونڈری وال کو 2 ماہ میں مکمل کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔
دوران اجلاس نیشنل پولیس اکیڈمی کو مرحلہ وار سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری دی گئی، تمام کلاس رومز کو جدید آئی ٹی سہولیات سے لیس کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین سی ڈی اے، آئی جی اسلام آباد پولیس، ڈپٹی کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور دیگر اعلیٰ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔