علی امین گنڈا پور نے آزاد کشمیر الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں سے کروڑوں روپےرشوت لی ، ایجنسیو ں کے پاس رپورٹس موجود ہیں، صحافی عمران ریاض خان کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن)صحافی عمران ریاض خان نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈا پور کے خلاف ایجنسیوں کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں جس کی وجہ سے انہیں قابو کر لیا گیا ہے۔وی لاگ میں بات کرتے ہوئے صحافی نے بتا یا کہ عمران خان نے علی امین گنڈا پور کو آزاد کشمیر کے حوالے سے وزیر بنا یا ہوا تھا، آزاد کشمیر میں 2021کے الیکشن کے دوران علی امین گنڈا پور نے بڑی کرپشن کی، یہ رپورٹس پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں تک پہنچ گئی تھیں۔ جب علی امین گنڈا پور کو گرفتار کیا گیا تو ان کے سامنے کچھ بیان حلفی رکھے گئے کہ جن لوگوں سے تم نے پیسے لیے ہیں یہ بیان حلفی ان کے ہیں۔عمران ریاض خان نے کہا کہ مجھ تک پہنچنے والے ایک بیان حلفی میں بتا یا گیا کہ اپریل2021میں الیکشن لڑنا چاہتا تھا تو علی امین گنڈا پور کے مانگنے پر میں نے انہیں دو کروڑ روپے دئیے، اس کے بعد ایک موقع پر علی امین گنڈا پور نے مجھ سے چار کروڑ روپے مانگا کیونکہ میرا مخالف تین کروڑ روپے دے رہا تھا ، میں نے یہ معاملہ پارٹی کے سامنے رکھا جس پر علی امین گنڈا پور نے مجھے دھمکیاں بھی دیں، میں نے اس معاملے کے بارے میں آئی ایس آئی کے ایک افسر کو بھی بتا یا۔ اس طرح کے چار پانچ بیان حلفی اور بھی ہیں اور اس معاملے پر ایجنسیو نے علی امین گنڈا پور کو قابو کرلیا۔
وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے افغانستان میں کی گئی پاکستان کی فضائی کارروائی پر حکومت کا باضابطہ مؤقف سینیٹ میں پیش کردیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: علی امین گنڈا پور نے
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔