امریکی حملے کا خدشہ؛ بھارت کی ایران سے اپنے شہریوں کو فوری واپس آنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
امریکا سمیت متعدد ممالک کی جانب سے اپنے شہریوں کو ایران خالی کرنے کی ہدایت کے بعد مودی سرکار نے بھی اپنے عوام کے لیے پیغام جاری کردیا۔
بھارت میڈیا کے مطابق وزارتِ خارجہ نے ایک اہم سفارتی انتباہ جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ایران میں موجود تمام بھارتی شہری بشمول طالب علم، مسافر، تجارتی افراد، مذہبی زائرین وغیرہ فوری طور پر وطن واپس آجائیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر بھارت واپس آنے کا موقع نہیں مل رہا تو فوری طور پر دستیاب نقل و حمل کے ذرائع بشمول تجارتی پروازوں کے ذریعے ایران چھوڑ کر کسی دوسرے محفوظ ملک چلے جائیں۔
بھارتی وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران سے فوری نکلنے کی یہ ہدایت موجودہ بدلتی ہوئی سیکورٹی صورتحال کے پیشِ نظر دی گئی ہے۔
ایران میں موجود بھارتی سفارتخانہ نے بھی اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ احتیاط برتیں اور مظاہروں یا ہجوم سے دور رہیں، ایرانی مقامی میڈیا پر نظر رکھیں۔
بھارتی سفارت خانے نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر سفارتخانہ سے باقاعدگی سے رابطہ کریں اور اپنے پاسپورٹ اور شناختی دستاویزات ساتھ رکھیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایمرجنسی معاونت کے لیے سفارتخانے کے ہیلپ لائن نمبرز اور رجسٹریشن لنک کا استعمال کریں۔
بھارت کے اندازے کے مطابق اس وقت تقریباً دس ہزار بھارتی شہری ایران میں موجود ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہا گیا ہے کہ
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔