اسلام ٹائمز: گذشتہ دنوں سینیئر امامینز برادر ایس این رضوی سے موجودہ ایران امریکہ کشیدگی پر ایک ڈسکشن ہوئی۔ اس مباحثہ کو تحریری شکل میں اسلام ٹائمز کے قارئین کے لیے منتقل کیا گیا ہے۔ تجریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی
 
ایران پر امریکی یا اسرائیلی حملے کی بحث کوئی نئی بات نہیں۔ گذشتہ کئی دہائیوں سے یہ سوال وقفے وقفے سے اٹھتا رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں یہ بحث غیر معمولی شدت اختیار کرچکی ہے۔ خاص طور پر جب امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ کیا اور اسرائیل نے براہِ راست کارروائیاں کیں، تو یہ تاثر مضبوط ہوا کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے کی عسکری مہم کا امکان موجود ہے۔ سن 2025ء میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیاں اس بحث کو مزید تقویت دیتی ہیں۔ 13 جون 2025ء کو اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا اور یہ تصادم تقریباً بارہ دن تک جاری رہا۔ اسی دوران، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری تھے، 22 جون 2025ء کو امریکہ نے ایران کے جوہری مراکز نطنز، فردو اور اصفہان کو نشانہ بنایا۔ ابتدائی دنوں میں ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت کو شدید نقصان پہنچا۔ بین الاقوامی ذرائع کے مطابق متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈرز شہید ہوئے، جن میں چند نام درج ذیل ہیں۔

عسکری کمانڈرز:
میجر جنرل محمد حسین باقری، ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف
میجر جنرل حسین سلامی، سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر
غلام علی رشید، سپاہ پاسداران کے سینیئر کمانڈر
امیر علی حاجی زادہ، سپاہ پاسداران کی فضائیہ کے سربراہ
داوود شیخیان، ایئر ڈیفنس یونٹ کمانڈر
طاہر پور، ڈرون یونٹ کمانڈر

جوہری سائنسدان اور ماہرین:
بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق متعدد ایرانی جوہری سائنسدان بھی ان حملوں میں شہید ہوئے، جن میں  چند نام درج ذیل نام ہیں: سعید برجی، فریدون عباسی، سید امیر حسین فنگی، عبدالحمید مینو شہر، محمد مہدی تہرانچی، علی بقائی کریمی، منصور عسگری، اکبر مطلب زادہ اور احمد رضا ذوالفقاری دریانی۔

اصل سوال:
اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ، جو اس وقت خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو ایران کے گرد منظم کر رہا ہے، کیا یہ اکٹھ مکمل حملے کی طرف جا سکتا ہے؟ یا یہ محض دباؤ کی حکمتِ عملی ہے۔؟ کیا یہ صرف نفسیاتی جنگ ہے یا اس کی عملی صورت بھی ممکن ہے۔؟ تاہم اس سوال کا جواب صرف عسکری طاقت کے توازن میں تلاش کرنا کافی نہیں؛ اس کے لیے داخلی سیاسی استحکام، انٹیلی جنس نیٹ ورکس اور ریاستی ڈھانچے کی مضبوطی کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔

1۔ براہِ راست جنگ، کیا یہ آسان فیصلہ ہے؟
ایران ایک روایتی کمزور ریاست نہیں۔ اس کے پاس علاقائی اثر و رسوخ، میزائل پروگرام، غیر متوازن جنگی حکمتِ عملی (asymmetric warfare) اور خطے میں اتحادی مزاحمتی نیٹ ورکس موجود ہیں۔ اس لیے براہِ راست حملہ صرف فضائی کارروائی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات خلیج، عراق، شام اور ممکنہ طور پر عالمی توانائی منڈی تک پھیل پھیل جائیں گے۔ امریکہ اور اسرائیل اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ایران پر کھلا حملہ کوئی محدود فوجی کارروائی نہیں ہوگا، بلکہ یہ پورے خطے کو شدید عدم استحکام اور ممکنہ طور پر آگ میں جھونک سکتا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی بارہ روزہ جنگ میں ایران اپنی عسکری صلاحیت کا عملی مظاہرہ کرچکا ہے۔ اس دوران ایران نے اپنی میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کو جس انداز میں استعمال کیا، اس نے خطے کی طاقت کے توازن پر گہرا اثر ڈالا۔

یہاں تک کہ امریکی صدر کے بقول، اسرائیل نے امریکہ سے اس جنگ کو رکوانے کی درخواست کی۔ اس تصادم میں ایران نے اسرائیل کو ایسا شدید نقصان پہنچایا، جس کی مثال، اسرائیل کی تاریخ میں، کسی دوسرے ملک کی جانب سے اس سے پہلے نہیں ملتی۔ براہِ راست حملہ: سادہ نہیں بلکہ مہنگا فیصلہ ہے۔ ایران ایک روایتی کمزور ریاست نہیں۔ اس کے پاس: بیلسٹک میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی، غیر متوازن جنگی حکمتِ عملی (Asymmetric Warfare)، خطے میں اتحادی نیٹ ورک (عراق، لبنان، شام وغیرہ میں اثر و رسوخ) آبنائے ہرمز جیسے عالمی توانائی گزرگاہ پر جغرافیائی کنٹرول۔ کسی بھی براہِ راست حملے کا مطلب یہ ہوگا کہ خلیج فارس، عراق، شام، لبنان اور ممکنہ طور پر عالمی سطح پر تیل کی منڈی عدم استحکام کا شکار ہو جائے۔ امریکہ اس وقت یوکرین جنگ، ایشیاء پیسیفک میں چین کے مقابلے اور داخلی سیاسی تقسیم جیسے عوامل سے بھی نمٹ رہا ہے۔ ایسے میں ایران کے خلاف مکمل جنگ ایک انتہائی مہنگا اور غیر یقینی قدم ہوگا۔

2۔ اصل محاذ، اندرونی دراڑیں:
جدید عالمی سیاست میں براہِ راست حملہ آخری مرحلہ ہوتا ہے۔ اس سے پہلے اندرونی کمزوریوں کو تلاش کیا جاتا ہے۔ اگر کسی ریاست کی اعلیٰ قیادت یا حساس اداروں میں بیٹھے افراد: ذاتی مفادات کے اسیر ہوں، بیرونی دباؤ میں ہوں یا کسی بھی وجہ (مالی یا بلیک میلنگ) سے خفیہ روابط میں آجائیں، جس کو عام زبان میں ایجنٹ کہتے ہیں تو بیرونی قوتوں کے لیے کارروائی آسان ہو جاتی ہے۔ یہ محض نظریاتی بات نہیں۔ عالمی طاقتوں کی تاریخ میں "ریجیم چینج" (Regime Change) کی حکمتِ عملی اکثر اندرونی تقسیم سے شروع ہوئی ہے۔

3۔ خریدے گئے عناصر کا انجام
تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ بڑی طاقتیں جن افراد کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں، وہ مستقل شراکت دار نہیں ہوتے، بلکہ عارضی مہرے ہوتے ہیں۔ جب ان کی افادیت ختم ہو جائے، ان کا راز افشا ہونے کا خطرہ ہو، یا وہ بوجھ بن جائیں، تو انہیں منظر سے ہٹانے میں بھی دیر نہیں لگائی جاتی۔ اس لیے جو لوگ اندر سے کسی بیرونی قوت کے لیے کام کرتے ہیں، وہ خود بھی محفوظ نہیں رہتے۔ یہ عالمی انٹیلی جنس سیاست کا سخت مگر معروف اصول ہے۔

4۔ کیا اسرائیل یا امریکہ اکیلے حملہ کرسکتے ہیں؟
اگر ایران داخلی طور پر متحد اور ادارہ جاتی طور پر مضبوط رہے تو: اسرائیل کے لیے تنہاء حملہ انتہائی خطرناک ہوگا۔ امریکہ کے لیے بھی یہ فیصلہ سادہ نہیں ہوگا، کیونکہ اس کے عالمی مفادات اور فوجی پھیلاؤ کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید جنگیں صرف فوجی طاقت سے نہیں جیتی جاتیں؛ ان میں اعلیٰ سطح پر موجود ایجنٹ، سیاسی تنہائی، داخلی کمزوری اور سفارتی ماحول بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔

5۔ نتیجہ، فیصلہ کن عنصر کیا ہے؟
ایران پر ممکنہ حملہ بیرونی طاقت سے زیادہ داخلی استحکام سے مربوط ہے۔ اگر:
اعلیٰ سطح پر دراڑیں پیدا ہو جائیں، حساس عہدوں پر بیٹھے افراد بیرونی اثر میں آجائیں، یا ریاستی نظم کمزور پڑ جائے تو بیرونی کارروائی کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ لیکن اگر داخلی اتحاد برقرار رہے، فیصلہ سازی کا نظام مضبوط رہے اور کوئی بکنے پر تیار نہ ہو تو براہِ راست حملہ ایک انتہائی مہنگا اور غیر یقینی اقدام ہوگا، جس کی جرات کرنا امریکہ اور اسرائیل کے لیے آسان نہیں۔ تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ریاستیں بیرونی حملے سے پہلے اندر سے کمزور کی جاتی ہیں۔

داخلی اتحاد ٹوٹ جائے، اعلیٰ ریاستی عہدوں پر بیٹھے ہوئے اپنے ذاتی مفادات کے لیے غداری کر جائیں تو بیرونی مداخلت آسان ہو جاتی ہے۔ آخر میں جو بات اعتماد سے کہی جاسکتی ہے، وہ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی بابصیرت قیادت میں کئے جانے والی ابھی تک کہ اسٹریٹجک اقدامات ہیں اور یوں بھی موجودہ جنگ عزم اور ارادوں کی جنگ ہے اور اس میں ایران کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: راست حملہ میں ایران ایران کے ایران پر رہا ہے اور اس کے لیے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم