ریلوے کے گریڈ 20 اور گریڈ 19 کے 5 اعلی افسران کے تقرروتبادلے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
(سعید احمد سعید) ریلوے حکام نے گریڈ 20 اور گریڈ 19 کے پانچ اعلی افسران کے تقرروتبادلے کردئیے۔
نوٹیفیکشن کے مطابق چیف آپریٹنگ آفیسر سیفٹی حنیف گل کو ڈی ایس ریلوے ملتان تعینات کردیا گیا ہے۔ڈی ایس ریلوے ملتان افتخار حسین کو ڈی ایس ریلوے ورکشاپ ڈویژن تعینات کردیا۔ڈی ایس ریلوے ورکشاپ خالد خان کو پروجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کردیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں عیدالفطر کی مناسبت سے سرکاری و نجی شعبے میں تعطیلات کا اعلان
محکمہ ریلوے کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق گریڈ 20 کے افسر نوید مبشر کو چیف آپریٹنگ آفیسر سیفٹی تعینات کردیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ فیاض احمد خان کو چیف پروجیکٹ اینڈ پلاننگ آفیسر تعینات کردیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ریلوے حکام گریڈ 20 گریڈ 19 پانچ اعلی افسران تقرروتبادلے گریڈ 20 تعینات کردیا گیا ہے ڈی ایس ریلوے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔