بھارتی وزیراعظم کو اپنا "پیارا دوست" قرار دیتے ہوئے نیتن یاہو نے اپنے آنے والے دورے کو تاریخی قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان شراکت جدت، سلامتی اور علاقائی تعاون میں نئی ​​بلندیوں پر پہنچ رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی 25 فروری کو اسرائیل کا دو روزہ دورہ کرنے والے ہیں۔ اپنے دورے سے پہلے نریندر مودی نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے تہنیتی پیغام کے جواب میں آج کہا کہ بھارت اسرائیل کے ساتھ اپنی مضبوط دوستی کی قدر کرتا ہے، جو اعتماد، اختراع، امن اور ترقی کے لئے مشترکہ عزم پر قائم ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ وہ خوشگوار بات چیت کے منتظر ہیں۔ انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں نریندر مودی نے بھارت اور اسرائیل کے درمیان مضبوط تعلقات کی تعریف کی اور متنوع تعلقات پر زور دیا۔ نریندر مودی نے لکھا "میرے دوست، وزیراعظم نیتن یاہو کا شکریہ۔ میں بھارت اور اسرائیل کے بیچ رشتوں اور ہمارے آپسی تعلقات کے کثیر جہتی نوعیت پر آپ سے پوری طرح متفق ہوں۔ بھارت اسرائیل کے ساتھ اپنی مضبوط اور پائیدار دوستی کی بڑی قدر کرتا ہے، یہ دوستی باہمی اعتماد، اختراع اور امن اور ترقی کے لئے مشترکہ عزم پر مبنی ہے۔ اپنے متوقع اسرائیل دورے کے دوران بات چیت اور ہماری میٹنگ کا انتظار رہے گا"۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اپنا "پیارا دوست" قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنے آنے والے دورے کو تاریخی قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان شراکت جدت، سلامتی اور علاقائی تعاون میں نئی ​​بلندیوں پر پہنچ رہی ہے۔ اس سے قبل نیتن یاہو نے اسرائیلی کابینہ میں اپنی تقریر سے متعلق ایک بیان سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ اس میں نیتن یاہو نے بھارت اسرائیل اتحاد کی طاقت پر زور دیا اور مشرق وسطیٰ میں استحکام اور ترقی کے لئے پرعزم قوموں کا محور بنانے کے اپنے وژن کا خاکہ پیش کیا۔

نتن یاہو نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ہماری کابینہ کی میٹنگ کے آغاز میں، میں نے اپنے پیارے دوست وزیر اعظم نریندر مودی کے آنے والے بدھ کو اسرائیل کے تاریخی دورے کے بارے میں بات کی۔ اسرائیل اور بھارت کے درمیان تعلقات دو عالمی رہنماؤں کے درمیان ایک مضبوط اتحاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جدت، سلامتی، اور مشترکہ اسٹریٹجک وژن میں شراکت دار ہیں۔ ہم مل کر استحکام اور ترقی کے لئے پُرعزم ممالک کی ایک مربوط قوم کی تعمیر کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا "اے آئی سے لے کر علاقائی تعاون تک، ہماری شراکت داری نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ نریندر مودی میں یروشلم میں آپ سے ملاقات کا منتظر ہوں"۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اور ترقی کے لئے بھارت اسرائیل نیتن یاہو نے اسرائیل کے کے درمیان کہا کہ

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل