Islam Times:
2026-07-23@23:24:57 GMT

سعودیہ اسرائیل کیساتھ تعلقات کی شرط سے باہر نکل آیا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT

سعودیہ اسرائیل کیساتھ تعلقات کی شرط سے باہر نکل آیا ہے؟

اسلام ٹائمز: 7 اکتوبر کے بعد کے برسوں میں اسرائیل میں یہ تاثر عام تھا کہ خطے میں اس کی عسکری برتری بالآخر اسے وہ سفارتی قبولیت دلائے گی جس کی اسے ہمیشہ تمنا رہی ہے۔ گرینڈ ڈیل کا خاکہ سادہ تجارتی منطق پر استوار تھا، ریاض اسرائیل سے تعلقات معمول پر لائے گا اور اس کے بدلے واشنگٹن اسے باہمی دفاعی معاہدہ، جدید ترین ہتھیاروں کے نظام اور سول جوہری تعاون فراہم کرے گا۔ یوں اسرائیل وہ کلید تھا جو سعودی عرب کے لیے امریکی خزانے کے دروازے کھولتا تھا۔ لیکن اب یہ فریم ورک بوسیدہ دکھائی دیتا ہے۔ خصوصی رپورٹ:    ایک معروف عبرانی میڈیا ادارے نے یہ چونکا دینے والا دعویٰ کیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اسرائیل کو کسی قسم کی قیمت یا باج ادا کیے بغیر امریکہ سے جدید لڑاکا طیارے حاصل کر لیے ہیں۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے عبرانی گروپ کے مطابق معروف صحافی زویکا کلین نے یروشلم پوسٹ اور معاریو میں شائع اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ سعودی عرب نہ صرف F-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کے حصول میں کامیاب ہو گیا ہے، بلکہ اس نے امریکہ کے ساتھ سول جوہری پروگرام کے معاہدے کی راہ بھی ہموار کر لی ہے اور وہ بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی پیشگی شرط کے بغیر۔ یہاں اصل سوال یہ ہے کہ بن سلمان پر تل ابیب کے ساتھ جلد سمجھوتہ کرنے کا دباؤ کیوں نہیں ڈالا گیا؟   مضمون کے ابتدائی حصے میں ایک جذباتی اعتراف ملتا ہے کہ ہم نے خود کو اس سچائی پر یقین کرنے کی اجازت دی۔ انتباہات، پناہ گاہیں اور گہرے زخم سہنے کے بعد ہم نے سوچا کہ شاید کھنڈرات سے کچھ بڑا جنم لے رہا ہے۔ جب آخری اسرائیلی قیدی گھروں کو لوٹے، جب جنگ بندی نے وقتی سکون دیا، اور جب 7 اکتوبر کی بازگشت پورے سیاسی منظرنامے پر پھیل گئی تو اسرائیلی معاشرے میں ایک خاموش اتفاقِ رائے ابھرا کہ سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ ناگزیر ہے۔ یہ طویل ترین اور تاریک ترین سرنگ کے اختتام پر ملنے والا انعام ہوگا۔ مگر یہ امید سراب ثابت ہوئی۔ سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات کا ممکنہ طور پر معمول پر آنا، وہ سفارتی خواب جو تقریباً ایک دہائی سے افق پر جھلملاتا رہا، اب نہ صرف مؤخر ہو چکا ہے بلکہ غیر یقینی اور شکوک کے دبیز سائے میں گم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ مبصرین اب یہ سوال نہیں اٹھاتے کہ یہ معاہدہ کب ہوگا، بحث اب اس پر ہے کہ آیا یہ کبھی ہوگا بھی یا نہیں۔   تو معاملات اس نہج تک کیسے پہنچے؟: اس کا جواب محض غزہ کی صورتحال، بن سلمان کی داخلی سیاسی ضرورت، یا امریکی دباؤ کی کمی میں تلاش کرنا ناکافی ہوگا۔ یہ عوامل اپنی جگہ اہم سہی، مگر اصل تصویر کہیں زیادہ گہری اور ساختیاتی نوعیت کی ہے۔ 7 اکتوبر کے بعد کے برسوں میں اسرائیل میں یہ تاثر عام تھا کہ خطے میں اس کی عسکری برتری بالآخر اسے وہ سفارتی قبولیت دلائے گی جس کی اسے ہمیشہ تمنا رہی ہے۔ گرینڈ ڈیل کا خاکہ سادہ تجارتی منطق پر استوار تھا، ریاض اسرائیل سے تعلقات معمول پر لائے گا اور اس کے بدلے واشنگٹن اسے باہمی دفاعی معاہدہ، جدید ترین ہتھیاروں کے نظام اور سول جوہری تعاون فراہم کرے گا۔ یوں اسرائیل وہ کلید تھا جو سعودی عرب کے لیے امریکی خزانے کے دروازے کھولتا تھا۔ لیکن اب یہ فریم ورک بوسیدہ دکھائی دیتا ہے۔   اطلاعات کے مطابق 2025 کے اواخر میں واشنگٹن کے دورے کے دوران بن سلمان اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان ایک جامع دوطرفہ جدیدکاری پیکیج پر پیش رفت ہوئی، جس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی شرط شامل نہیں تھی۔ وائٹ ہاؤس کے بریفنگ پیپر میں سعودی عرب کی اہم غیر نیٹو اتحادی حیثیت کی توثیق کی گئی، F-35 اسٹیلتھ طیاروں کی فروخت کی منظوری دی گئی، اور سول نیوکلیئر انرجی کے شعبے میں تعاون کے لیے مذاکرات کی تکمیل کا مشترکہ بیان جاری کیا گیا۔ وہی سول جوہری پروگرام جسے کبھی اسرائیل کے لیے سفارتی دباؤ کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، اب بغیر کسی پیشگی شرط کے ریاض کے ہاتھ میں آ چکا ہے۔ یوں خطے کی بساط پر مہرے نئی ترتیب سے سجے ہیں اور سوال اب یہ نہیں کہ سعودی عرب اسرائیل کے قریب کب آئے گا، بلکہ یہ ہے کہ کیا اسے اب اس کی ضرورت بھی باقی رہی ہے؟ یا نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسرائیل کے سول جوہری کہ سعودی معمول پر کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم