Islam Times:
2026-06-03@02:19:07 GMT

سعودیہ اسرائیل کیساتھ تعلقات کی شرط سے باہر نکل آیا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT

سعودیہ اسرائیل کیساتھ تعلقات کی شرط سے باہر نکل آیا ہے؟

اسلام ٹائمز: 7 اکتوبر کے بعد کے برسوں میں اسرائیل میں یہ تاثر عام تھا کہ خطے میں اس کی عسکری برتری بالآخر اسے وہ سفارتی قبولیت دلائے گی جس کی اسے ہمیشہ تمنا رہی ہے۔ گرینڈ ڈیل کا خاکہ سادہ تجارتی منطق پر استوار تھا، ریاض اسرائیل سے تعلقات معمول پر لائے گا اور اس کے بدلے واشنگٹن اسے باہمی دفاعی معاہدہ، جدید ترین ہتھیاروں کے نظام اور سول جوہری تعاون فراہم کرے گا۔ یوں اسرائیل وہ کلید تھا جو سعودی عرب کے لیے امریکی خزانے کے دروازے کھولتا تھا۔ لیکن اب یہ فریم ورک بوسیدہ دکھائی دیتا ہے۔ خصوصی رپورٹ:    ایک معروف عبرانی میڈیا ادارے نے یہ چونکا دینے والا دعویٰ کیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اسرائیل کو کسی قسم کی قیمت یا باج ادا کیے بغیر امریکہ سے جدید لڑاکا طیارے حاصل کر لیے ہیں۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے عبرانی گروپ کے مطابق معروف صحافی زویکا کلین نے یروشلم پوسٹ اور معاریو میں شائع اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ سعودی عرب نہ صرف F-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کے حصول میں کامیاب ہو گیا ہے، بلکہ اس نے امریکہ کے ساتھ سول جوہری پروگرام کے معاہدے کی راہ بھی ہموار کر لی ہے اور وہ بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی پیشگی شرط کے بغیر۔ یہاں اصل سوال یہ ہے کہ بن سلمان پر تل ابیب کے ساتھ جلد سمجھوتہ کرنے کا دباؤ کیوں نہیں ڈالا گیا؟   مضمون کے ابتدائی حصے میں ایک جذباتی اعتراف ملتا ہے کہ ہم نے خود کو اس سچائی پر یقین کرنے کی اجازت دی۔ انتباہات، پناہ گاہیں اور گہرے زخم سہنے کے بعد ہم نے سوچا کہ شاید کھنڈرات سے کچھ بڑا جنم لے رہا ہے۔ جب آخری اسرائیلی قیدی گھروں کو لوٹے، جب جنگ بندی نے وقتی سکون دیا، اور جب 7 اکتوبر کی بازگشت پورے سیاسی منظرنامے پر پھیل گئی تو اسرائیلی معاشرے میں ایک خاموش اتفاقِ رائے ابھرا کہ سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ ناگزیر ہے۔ یہ طویل ترین اور تاریک ترین سرنگ کے اختتام پر ملنے والا انعام ہوگا۔ مگر یہ امید سراب ثابت ہوئی۔ سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات کا ممکنہ طور پر معمول پر آنا، وہ سفارتی خواب جو تقریباً ایک دہائی سے افق پر جھلملاتا رہا، اب نہ صرف مؤخر ہو چکا ہے بلکہ غیر یقینی اور شکوک کے دبیز سائے میں گم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ مبصرین اب یہ سوال نہیں اٹھاتے کہ یہ معاہدہ کب ہوگا، بحث اب اس پر ہے کہ آیا یہ کبھی ہوگا بھی یا نہیں۔   تو معاملات اس نہج تک کیسے پہنچے؟: اس کا جواب محض غزہ کی صورتحال، بن سلمان کی داخلی سیاسی ضرورت، یا امریکی دباؤ کی کمی میں تلاش کرنا ناکافی ہوگا۔ یہ عوامل اپنی جگہ اہم سہی، مگر اصل تصویر کہیں زیادہ گہری اور ساختیاتی نوعیت کی ہے۔ 7 اکتوبر کے بعد کے برسوں میں اسرائیل میں یہ تاثر عام تھا کہ خطے میں اس کی عسکری برتری بالآخر اسے وہ سفارتی قبولیت دلائے گی جس کی اسے ہمیشہ تمنا رہی ہے۔ گرینڈ ڈیل کا خاکہ سادہ تجارتی منطق پر استوار تھا، ریاض اسرائیل سے تعلقات معمول پر لائے گا اور اس کے بدلے واشنگٹن اسے باہمی دفاعی معاہدہ، جدید ترین ہتھیاروں کے نظام اور سول جوہری تعاون فراہم کرے گا۔ یوں اسرائیل وہ کلید تھا جو سعودی عرب کے لیے امریکی خزانے کے دروازے کھولتا تھا۔ لیکن اب یہ فریم ورک بوسیدہ دکھائی دیتا ہے۔   اطلاعات کے مطابق 2025 کے اواخر میں واشنگٹن کے دورے کے دوران بن سلمان اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان ایک جامع دوطرفہ جدیدکاری پیکیج پر پیش رفت ہوئی، جس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی شرط شامل نہیں تھی۔ وائٹ ہاؤس کے بریفنگ پیپر میں سعودی عرب کی اہم غیر نیٹو اتحادی حیثیت کی توثیق کی گئی، F-35 اسٹیلتھ طیاروں کی فروخت کی منظوری دی گئی، اور سول نیوکلیئر انرجی کے شعبے میں تعاون کے لیے مذاکرات کی تکمیل کا مشترکہ بیان جاری کیا گیا۔ وہی سول جوہری پروگرام جسے کبھی اسرائیل کے لیے سفارتی دباؤ کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، اب بغیر کسی پیشگی شرط کے ریاض کے ہاتھ میں آ چکا ہے۔ یوں خطے کی بساط پر مہرے نئی ترتیب سے سجے ہیں اور سوال اب یہ نہیں کہ سعودی عرب اسرائیل کے قریب کب آئے گا، بلکہ یہ ہے کہ کیا اسے اب اس کی ضرورت بھی باقی رہی ہے؟ یا نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسرائیل کے سول جوہری کہ سعودی معمول پر کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم