ڈی آئی خان، سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 4 خوارج جہنم واصل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
راولپنڈی :(نیوزڈیسک) خیبر پختوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرکے 4خوارج جہنم واصل کردیے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق سیکورٹی فورسز نے انڈین پراکسی، فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے شرپسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر مؤثر طریقے سے کارروائی کی، شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 4 خوارج مارے گئے۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے فتنہ الہندستان کے خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا جو علاقے میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں سرگرم رہے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں پائے جانے والے کسی بھی دوسرے ہندوستانی سپانسر شدہ خارجیوں کے خاتمے کے لیے سینی ٹائزیشن آپریشن مسلسل جاری ہیں۔
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ سیکورٹی فورسز اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے ویژن ’عزمِ استحکام ‘ کے تحت انسداد دہشت گردی کی مسلسل مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔