پی ایس ایل کی نئی ٹیم سیالکوٹ اسٹالینز کے مالک نے فرنچائز سے دستبرداری کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان سپر لیگ میں حال ہی میں شامل ہونے والی فرنچائز سیالکوٹ اسٹالینز کو ایک بڑی انتظامی تبدیلی کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے، جہاں ٹیم کے مالک کامل خان نے باضابطہ طور پر علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے، اس فیصلے نے نہ صرف کرکٹ حلقوں میں توجہ حاصل کی بلکہ پی ایس ایل کے انتظامی ڈھانچے میں بھی ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کامل خان نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کرکٹ سے گہری وابستگی اور محبت کے تحت سیالکوٹ اسٹالینز کی قیادت سنبھالی تھی اور مختصر مدت میں بھرپور محنت اور خلوص کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کے قیام کے ابتدائی مراحل میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کی گئیں، جن میں عالمی شہرت یافتہ بیٹر اسٹیو اسمتھ سے معاہدہ، سابق آسٹریلوی کپتان ٹم پین کی بطور ہیڈ کوچ تقرری اور معروف اسپورٹس برانڈ نیو بیلنس کے ساتھ شراکت داری جیسے اہم اقدامات شامل ہیں۔
کامل خان نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کے حالیہ فیصلوں پر گہرے غور و فکر کے بعد انہوں نے ٹیم سے علیحدہ ہونے کا حتمی فیصلہ کیا، یہ فیصلہ انہوں نے کچھ عرصہ قبل ہی کر لیا تھا، تاہم باضابطہ اعلان سے پہلے وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ ٹیم ایک مضبوط اور محفوظ انتظامی ہاتھوں میں منتقل ہو۔ انہوں نے سیالکوٹ اسٹالینز کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ فرنچائز مستقبل میں مزید کامیابیاں سمیٹے گی۔
ادھر پی ایس ایل سے جڑی ایک اور اہم پیشرفت میں انکشاف ہوا ہے کہ سیالکوٹ اسٹالینز کے 90 فیصد سے زائد حصص ایک نئے سرمایہ کار گروپ کو فروخت کیے جا رہے ہیں، جس کے بعد اوز گروپ کا ٹیم پر عملی کنٹرول ختم ہو جائے گا۔ ذرائع کے مطابق یہ سودا آئندہ چند دنوں میں مکمل ہونے کا امکان ہے، جس کے بعد فرنچائز کے انتظامی اور مالی معاملات میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔
کرکٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اچانک تبدیلی سے نہ صرف سیالکوٹ اسٹالینز کی سمت کا تعین ہو گا بلکہ پی ایس ایل کے مجموعی ڈھانچے پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے، اور آنے والے سیزن میں ٹیم کی کارکردگی پر سب کی نظریں مرکوز رہیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیالکوٹ اسٹالینز پی ایس ایل انہوں نے
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز