تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کوٹ لکھپت جیل لاہور سے اہم بیان جاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
تحریک انصاف کے رہنماؤں نے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے میڈیا کے لیے اہم بیان جاری کردیا۔
شاہ محمود قریشی، عمر سرفراز چیمہ، یاسمین راشد، میاں محمود الرشید اور اعجاز چودری نے اپنے وکیل رانا مدثر عمر کے ذریعے بیان جاری کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام اور فلسطین کے مسئلے پر فوری کثیر الجماعتی کانفرنس منعقد ہونی چاہیے، خطے میں دو ریاستی حل اور انصاف کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔
تمام فریقین فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کا اعادہ کریں۔ مذاکرات کے ذریعے اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں چھ سو سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے چار مستقل اراکین کے “بورڈ آف پیس” کا حصہ نہ بننے پر بحث ہونی چاہیے، اور یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا اسرائیل کو بورڈ آف پیس کی رکنیت دی جائے جبکہ فلسطینیوں کو اس سے باہر رکھا جائے۔
بیان میں کہا گیا کہ تہران کا دس دنوں میں واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرنے میں ناکام ہونا خطے کو جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے، ایران میں عدم استحکام کے نتائج اور اس کے پاکستان پر اثرات بھی اہم ہیں۔ بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی اسرائیل کی خلاف ورزیوں نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
پارلیمنٹ میں فلسطینی مسئلے اور خطے میں بڑھتی کشیدگی پر کوئی بامعنی بحث نہیں ہوئی، اس لیے غزہ اور وسیع تر خطے میں امن و استحکام کے لیے قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی خاطر فوری کثیر الجماعتی کانفرنس وقت کی اہم ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گیا کہ
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔