اوپن اے آئی کے سی ای او نے مصنوعی ذہانت کے پانی کے خدشات کو بے بنیاد قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین کا کہنا ہے کہ کچھ رپورٹس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے درکار پانی کی مقدار بڑھا چڑھا کر بیان کی گئی ہے۔ اے آئی سمٹ میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آن لائن دعوے کہ چیٹ جی پی ٹی یا دیگر اے آئی نظام ہر سوال کے لیے کئی گیلنز پانی استعمال کرتے ہیں، غلط اور بے بنیاد ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی کے پس پردہ اے آئی ٹیکنالوجی بنانے کے لیے پانی کا بےتحاشہ استعمال کیوں کیا گیا؟
آلٹ مین نے وضاحت کی کہ اگرچہ ڈیٹا سینٹرز کو کمپیوٹر سسٹمز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے، نئی ٹیکنالوجی اس ضرورت کو کم کر رہی ہے اور کچھ ڈیٹا سینٹرز اب پانی پر مکمل طور پر انحصار نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا، ’پانی کے بارے میں خدشات بے بنیاد ہیں، تاہم توانائی کا استعمال ابھی بھی ایک حقیقی مسئلہ ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت مجموعی طور پر بہت زیادہ توانائی استعمال کرتی ہے، لہٰذا ہمیں توانائی کے متبادل ذرائع جیسے ہوا، شمسی توانائی یا جوہری توانائی کی طرف جانا چاہیے۔
آلٹ مین نے اے آئی کا موازنہ انسانوں سے بھی کیا اور کہا کہ ایک انسان کو سوچنا سکھانے میں سالوں کی محنت، توانائی، خوراک، تعلیم اور دیگر وسائل درکار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’منصفانہ موازنہ یہ ہے کہ اے آئی کو ایک سوال کا جواب دینے میں کتنی توانائی لگتی ہے جب اسے تربیت دے دی جائے، اور اس معاملے میں اے آئی پہلے ہی انسانوں کے برابر ہے۔‘
یہ بھی پڑھیں: ڈیٹا سینٹرز میں بجلی کی بے تحاشا کھپت، اوپن اے آئی نے حل ڈھونڈ لیا
تاہم اس معاملے پر سب کا یہی نظریہ نہیں ہے۔ ژو ہو کارپوریشن کے شریک بانی سری دھر ویمبو کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا انسانی ذہانت سے موازنہ کرنا خطرناک نتائج پیدا کرسکتا ہے، کیونکہ مختلف قسم کی ٹیکنالوجی کو انسانوں کی طرح نہیں پرکھنا چاہیے۔
دنیا کی حکومتیں اور کمپنیاں مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی کمپیوٹنگ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نئے ڈیٹا سینٹرز بنانے پر اربوں روپے خرچ کر رہی ہیں۔ کچھ مقامی کمیونٹیز نے ایسے منصوبوں کی مخالفت کی ہے، کیونکہ انہیں زیادہ بجلی کے اخراجات اور مقامی توانائی کے وسائل پر دباؤ کا خدشہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آلٹ مین اوپن اے آئی پانی پراسیسرز چیٹ جی پی ٹی ڈیٹا سینٹرز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا لٹ مین اوپن اے ا ئی پانی چیٹ جی پی ٹی ڈیٹا سینٹرز مصنوعی ذہانت ڈیٹا سینٹرز انہوں نے اوپن اے اے آئی کے لیے
پڑھیں:
سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
حکومتِ پنجاب نے سیکیورٹی خدشات(security risk) کے پیشِ نظر دفعہ 144 کے تحت پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کھلے مقامات پر ڈرون کے استعمال پر پابندی برقرار رہے گی۔
مزید پڑھیں:واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرونز کے محدود استعمال کی اجازت ہو گی تاہم اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمے داری منتظمین پر عائد ہو گی۔