بنوں میں شہید لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ سپرد خاک
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
لیفٹیننٹ کرنل گل فراز شہید کی نماز جنازہ مانسہرہ جبکہ سپاہی کرامت کی نماز جنازہ پشاور میں ادا کی گئی، شہدا کو ان کے آبائی علاقوں میں مکمل فوجی اعزاز اور قومی وقار کیساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ بنوں میں شہید لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا۔ لیفٹیننٹ کرنل گل فراز شہید کی نماز جنازہ مانسہرہ جبکہ سپاہی کرامت کی نماز جنازہ پشاور میں ادا کی گئی، شہدا کو ان کے آبائی علاقوں میں مکمل فوجی اعزاز اور قومی وقار کیساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔ شہداء کی نماز جنازہ میں سینئر فوجی افسران ، علاقہ عمائدین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شہید لیفٹیننٹ کرنل گل فراز اور سپاہی کرامت نے بنوں میں فتنہ الخوارج کے بزدلانہ حملہ میں جام شہادت نوش کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لیفٹیننٹ کرنل کی نماز جنازہ سپاہی کرامت گل فراز
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔