صفا پروجیکٹ ناکام، شہر میں گندگی پھیل گئی ہے، ایم ڈبلیو ایم کوئٹہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم کوئٹہ کے رہنماؤں نے کہا کہ شہر کو گندگی کے ڈھیر میں تبدیل کرنے کے بعد سب بری الذمہ ہو گئے ہیں۔ کوئی ذمہ دار سامنے آکر صفائی کا نظام بہتر بنانے کیلئے تیار نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ماہ مبارک رمضان میں بھی ضلعی انتظامیہ اور نااہل صوبائی حکومت شہر کا خیال اور صفائی نظام کو برقرار رکھنے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہیں۔ کوئٹہ جیسا خوبصورت شہر نااہل حاکموں کی بے حسی کے باعث کچرے کا ڈھیر بن گیا ہے، جگہ جگہ نالوں سے گندہ پانی سڑک پر جمع ہوتا ہے، اور کئی دنوں تک وہی پر شہریوں کی پریشانی اور مختلف بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ بیان میں شہر کے مختلف علاقوں کی خستہ حالی اور صفائی کے ناقص نظام کا ذمہ دار نااہل انتظامیہ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہر میں نئے نئے تجربے کئے جاتے ہیں، تاہم ان کی ناکامی کا بیڑا کوئی اپنے سر اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ صفا کوئٹہ کے نام پر شہریوں کے ساتھ جو مذاق کیا گیا، آج اس کی بدولت جگہ جگہ نالوں کا پانی سڑکوں پر جمع ہو رہا ہے۔ ذمہ داران نجی ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے کے بجائے سوشل میڈیا پر ویڈیو بنانے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں، جبکہ زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو کوئٹہ شہر کی صفائی کی حالت بد سے بدتر ہو گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ شہر کو گندگی کے ڈھیر میں تبدیل کرنے کے بعد سب بری الذمہ ہو گئے ہیں۔ کوئی ذمہ دار سامنے آکر صفائی کا نظام بہتر بنانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ حکومت افرادی قوت کا استعمال کرکے عوام الناس سے پیسے تو وصول کر لیتی ہے، مگر عوام کو یہ حق نہیں دیا جاتا کہ وہ انتظامیہ کی ناقص کارکردگی پر سوال اٹھائے۔ اچھا اور صاف ماحول ہر شہری کا بنیادی حق ہے، تاہم بلوچستان کے محروم اقوام سے دن بدن بنیادی حقوق چھینے جا رہے ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ فوری طور پر اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے، اور شہر کی صفائی کا بہتر نظام لائے۔ صفاء کوئٹہ کا پروجیکٹ ناکام ہو گیا ہے۔ اپنی ناکامی چھپانے کے لئے ناکام پروجیکٹ کو برقرار رکھنا اور مزید قوت صرف کرنا عوام الناس کے ساتھ زیادتی ہے۔ حکومت ہم پر مزید تجربے کے بجائے موثر فیصلے کرے اور کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن میں مثبت اصلاحات لاکر دوبارہ فعال بنائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :