کوئٹہ ایکسپو سینٹر کی تعمیر میں تاخیر سے منصوبے کی لاگت میں دگنے اضافے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
کوئٹہ میں ایکسپو سینٹر کے تعمیری منصوبے میں تاخیر کے باعث اب لاگت بڑھ کر 4.8 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا محمد جاوید حنیف کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں کوئٹہ ایکسپو سینٹر کی تعمیری لاگت میں دوگنا اضافے کا انکشاف ہوا۔
وزارت تجارت کے حکام نے بتایا کہ 2019 میں منصوبے کی لاگت کا تخمینہ 2.
کمیٹی نے منصوبے پر عمل درآمد میں تاخیر اور لاگت میں اضافے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے لاگت میں اضافے کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کیلئے رپورٹ مانگ لی۔
رکن کمیٹی اسد عالم نیازی نے کہا کہ یہ منصوبہ نوگو ایریا میں بنایا جارہا ہے، کاروباری طبقہ وہاں جانے کو تیار نہیں۔
وزارت تجارت نے وضاحت کی کہ منصوبہ کوئٹہ ایسٹرن بائی پاس سبی روڈ پر تعمیر کیا جارہا ہے، بلوچستان میں دو گروپس میں تنازع کی وجہ سے منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا۔
انہوں نے کہا کہ وزارت منصوبہ بندی کی جانب سے منظوری میں تاخیر بھی لاگت بڑھنے کی وجہ بنی۔ منصوبے کیلیے وزارت تجارت نے اگلے مالی سال منصوبے کیلئے تین ارب روہے مانگ لیے۔
وزارت تجارت نے کہا کہ منصوبے کی فزیبلٹی اور زمین کی خریداری سمیت اب تک ایک ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں، نئے مالی سال بجٹ سیلنگ دیکھ کر فنڈز کا تعین کیا جائے گا۔
وزارت منصوبہ بندی نے بتایا کہ اس سال 781 ترقیاتی منصوبوں کیلئے صرف ایک ہزار ارب روپے رکھے گئے ہیں، آئی ایم ایف نے وفاقی حکومت پر صوبائی نوعیت کے منصوبوں پر پابندی لگا رکھی ہے۔
کمیٹی نے وزارت منصوبہ بندی سے تفصیلی رپورٹ مانگ لی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں تاخیر منصوبے کی ارب روپے لاگت میں
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔