پشاور میں چاند دیکھنے کیلئے رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس پر 20لاکھ روپے اخراجات کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
پشاور میں چاند دیکھنے کیلئے رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس پر 20لاکھ روپے اخراجات کا انکشاف WhatsAppFacebookTwitter 0 23 February, 2026 سب نیوز
پشاور(سب نیوز)پشاور میں ہونے والے رویت ہلال کمیٹی اجلاس میں بیس لاکھ روپے کے اخراجات کا انکشاف ہوا ہے،جس کی باضابطہ منظوری خیبر پختونخوا کابینہ سے لی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے انتظامات سے متعلق اخراجات کی منظوری صوبائی کابینہ کے ایجنڈے میں شامل ہے، مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس18فروری کوپشاورمیں ہوا تھا۔اجلاس میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے ساتھ ساتھ زونل کمیٹی کے اراکین نے بھی شرکت کی،جبکہ محکمہ موسمیات ،سائنس وٹیکنالوجی اور سپارکو کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق 25 فروری کو ہونے والے اجلاس کے لیے 18 نکاتی ایجنڈا تیار کرلیا گیا ہے، جس کے مطابق رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس پر 20لاکھ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سی ڈی اے کا سیکٹر ایچ نائن میں قائم رمضان سہولت بازار کا دورہ،اشیا خوردونوش کی ارزاں نرخوں پر فراہمی اور کوالٹی کا جائزہ لیا چیئرمین سی ڈی اے کا سیکٹر ایچ نائن میں قائم رمضان سہولت بازار کا دورہ،اشیا خوردونوش کی ارزاں نرخوں پر فراہمی اور کوالٹی کا... پاکستانی ہائی کمشنر کی بنگلادیشی وزیرِ خارجہ سے ملاقات، عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد دی ڈکی بھائی کے فریز بینک اکاونٹس بحال، ویڈیو اپلوڈ کرنے کی اجازت بھی مل گئی سپریم کورٹ کا آئین و قانون کی تشریح کا اختیار ختم ہو گیا، وفاقی آئینی عدالت بزنس کمیونٹی کا صدر ایف پی سی سی آئی مدتِ ملازمت میں مزید توسیع کا مطالبہ کرک میں ایف سی قلعے پر کواڈ کاپٹر حملہ، ایمبولینس پر فائرنگ، تین اہلکار شہید
Copyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: رویت ہلال کمیٹی کے
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔