ذرائع کے مطابق 25 فروری کو ہونے والے اجلاس کے لیے 18 نکاتی ایجنڈا تیار کرلیا گیا ہے، جس کے مطابق رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس پر 20 لاکھ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے 20 لاکھ روپے خرچ کردیے جو خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت ادا کرے گی۔ خیبر پختونخوا کی حکومت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی صدارت میں 25 فروری کو ہونے والے کابینہ کا 48 ویں اجلاس کا ایجنڈا تیار کرلیا ہے جس میں رویت ہلال کمیٹی کے اخراجات کی منظوری بھی دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق 25 فروری کو ہونے والے اجلاس کے لیے 18 نکاتی ایجنڈا تیار کرلیا گیا ہے، جس کے مطابق رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس پر 20 لاکھ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔

ایجنڈے کے مطابق اجلاس میں رویت ہلال کمیٹی کے اخراجات کی مںظوری لی جائے گی۔ صوبائی کابینہ ایجنڈے میں گندم ذخیرہ کرنے کی پالیسی اور خواتین ہراسانی قانون میں ترامیم بھی شامل ہیں، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ڈی آئی خان موٹروے کی منظوری بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔ اسی طرح رمضان سپورٹ پروگرام، اقلیتی طالب علموں کے لیے خصوصی فنڈزکی مظوری بھی ایجنڈے میں شامل کی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: رمضان المبارک کا چاند رویت ہلال کمیٹی کے کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا