دہشتگرد سلیم بلوچ کی ہلاکت، لاپتہ افراد کے بیانیے کے پیچھے چھپی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
تربت(نیوز ڈیسک)دہشتگرد سلیم بلوچ کی ہلاکت سے لاپتہ افراد کے بیانیے کے پیچھے چھپی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی بے نقاب ہوگئی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق 31جنوری کو بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے بزدلانہ حملوں میں لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل سلیم بلوچ بھی ملوث تھا۔فتنہ الہندوستان اور را سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے سلیم بلوچ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے ۔فتنہ الہندوستان کا سرغنہ سلیم بلوچ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے حملوں میں سکیورٹی فورسز سے لڑتے ہوئے تربت میں جہنم واصل ہوا ۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ماہرنگ لانگو اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے دہشتگرد سلیم بلوچ کو لاپتہ قرار دیگر پروپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے ۔یہ پہلا موقع نہیں جب کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی ، ماہ رنگ لانگو اور دیگر نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں لاپتہ افراد کا پروپیگنڈا کرتی رہی ہیں۔اس سے قبل بھی فتنہ الہندوستان کے مارے جانے والے متعدد دہشتگرد لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل رہے ہیں۔
مستونگ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی نام نہاد لاپتہ افرادکی فہرست میں شامل فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد برہان بلوچ اور حفیظ بلوچ بھی جہنم واصل ہوئے تھے۔بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لاپتہ افراد کی فہرست میں دہشگرد عبدالحمیداور راشد بلوچ بھی شامل تھے جنہیں جہنم واصل کیا گیا۔2025 میں قلات میں آپریشن کے دوران ہلاک دہشتگردصہیب لانگو اور مارچ 2024 کو گوادر حملے میں مارے جانے والا دہشتگرد کریم جان بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل تھے ۔
نیول بیس حملے میں مارے جانے والا دہشتگرد عبدالودود بھی نام نہاد لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھا۔ سلیم بلوچ اور اس جیسے دیگر دہشت گردوں کی ہلاکت اس بات کی تصدیق ہے کہ نام نہاد لاپتہ افراد کا بیانیہ دہشتگردوں کی کارروائیوں کو جواز فراہم کر نے کی سازش ہے۔بلوچ یکجہتی کمیٹی نوجوانوں کو احساس محرومی کے گمراہ کن بیانیہ میں الجھا کر بالآخر فتنہ الہندوستان کے حوالے کردیتی ہے۔
فتنہ الہندوستان اِن بلوچ نوجوانوں کے جذبات کو بھڑکا کر انہیں مسلح بغاوت اور دہشتگردی کیلئے استعمال کرتی ہے۔ماہرین کی رائے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کا سافٹ چہرہ فتنہ الہندوستان کی دہشتگرد کارروائیوں کو لاپتہ افراد کے بیانیے سے تحفظ دیتا ہے۔، ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کو ’’را‘‘ اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کی سرپرستی حاصل ہے۔ نام نہادلاپتہ افراد کی فہرست میں شامل دہشتگردوں کی ہلاکت سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کا بے بنیاد پروپیگنڈا زمین بوس ہو چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: لاپتہ افراد کی فہرست میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی فتنہ الہندوستان کے سلیم بلوچ کی ہلاکت نام نہاد
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔