انجمن امامیہ بلتستان کے وفد کی گانچھے آمد، شہید ساجد حسین کے لواحقین سے اظہار تعزیت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
سوگواران اور عمائدین ڈغونی سے گفتگو کرتے ہوئے وفد نے کہا کہ اہلبیت علیہم السلام کے ماننے والوں کے لیے یہ باعثِ فخر ہے کہ ان کی شہادتیں مسجد میں حالتِ نماز، امام بارگاہ میں مجلس کے دوران یا جلوسِ عزاداری سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام میں نصیب ہوتی ہیں۔ شہید ساجد حسین بھی انہی سعادت مند جوانوں میں شامل ہیں جنہوں نے جامع مسجد میں سجدے کی حالت میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے حق و صداقت کی گواہی دی۔ اسلام ٹائمز۔ ڈاغونی گانچھے میں آج شہید ساجد حسین کے غمزدہ اہلِ خانہ اور عزیزان سے تعزیت کے لیے صدر انجمنِ امامیہ بلتستان آغا سید باقر الحسینی مرکزی وفد کے ہمراہ ڈغونی پہنچے۔ اس موقع پر شہید کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی بلند درجات کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا گیا۔ سوگواران اور عمائدین ڈغونی سے گفتگو کرتے ہوئے وفد نے کہا کہ اہلبیت علیہم السلام کے ماننے والوں کے لیے یہ باعثِ فخر ہے کہ ان کی شہادتیں مسجد میں حالتِ نماز، امام بارگاہ میں مجلس کے دوران یا جلوسِ عزاداری سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام میں نصیب ہوتی ہیں۔ شہید ساجد حسین بھی انہی سعادت مند جوانوں میں شامل ہیں جنہوں نے جامع مسجد میں سجدے کی حالت میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے حق و صداقت کی گواہی دی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم ایک شہید پرور قوم ہیں اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عظیم قربانی کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ شہید ساجد حسین کے والد اور عمائدینِ ڈغونی نے آغا سید باقر الحسینی اور انجمنِ امامیہ کے وفد کی آمد پر دلی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی اس تعزیتی حاضری نے ہمارے حوصلوں کو تقویت بخشی اور ہمارے غم کو سہارا دیا۔ اس موقع پر آغا باقر الحسینی نے شہید کی درجات کی بلندی، سوگوار خاندان کے لیے صبرِ جمیل اور خطہ امن و آشتی بلتستان کے دوامِ امن و امان کے لیے خصوصی دعا کی۔ واضح رہے کہ شہید ساجد حسین سانحہ جامع مسجد خدیجۃ الکبریٰ ترلائی اسلام آباد میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے میں شہید ہوئے تھے۔ مرکزی وفد میں انجمنِ امامیہ کے سینئر نائب صدر شیخ زاہد حسین زاہدی، سیکریٹری جنرل محمد نذیر شگری اور انجمنِ امامیہ کے ترجمان آغا زمانی بھی شامل تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شہید ساجد حسین کے لیے
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔