قومی سلامتی کی حفاظت پاک فوج کی ذمہ داری، دہشتگردوں کیخلاف کارروائیاں قابل تعریف ہیں، قاسم علی قاسمی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
فوکل پرسن شیعہ علماء کونسل پنجاب کا کہنا ہے کہ کرک میں ایف سی ایمبولینس پر فائرنگ، بنوں میں حملہ اور بلوچستان میں مزدوروں کا اغواء قابل مذمت ہے، دہشت گردی کا آغاز اہل تشیع کی ٹارگٹ کلنگ سے شروع ہوا، اب یہ ناسور پورے ملک میں پھیل چکا ہے، فرقہ پرست دہشت گرد کالعدم جماعت کے اجتماعات منعقد ہو رہے ہیں، کوئی روکنے والا نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پنجاب کے فوکل پرسن قاسم علی قاسمی نے پاک فوج کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں وقت کی ضرورت اور قابل تعریف قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کرک میں ایف سی کے زخمی اہلکاروں کو لے جانے والی ایمبولینس پر فائرنگ، بنوں میں فوج کے کانوائے پر فتنہ الخوارج کا حملہ اور بلوچستان میں مزدوروں کا اغواء قابل مذمت ہیں، پاک فوج کی پاکستان کی قومی سلامتی کی حفاظت کی ذمہ دار ہے، جسے ہر صورت بھرپور انداز سے اپنانا چاہئے۔ انہوں نے کہا افسوس کی بات ہے کہ فوجی کانوائی پر حملہ کیا گیا، جس میں ایک لیفٹینٹ جنرل اور ایک سپاہی شہید ہوئے۔ کرک میں ایمبولینس پر فائرنگ بزدلانہ کارروائی اور انسانیت دشمنی کی بدترین مثال ہے۔
قاسم علی قاسمی نے کہا دہشت گردی کے خاتمے کے لئے قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے، قوم دیکھ رہی ہے کہ فوج نے دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر کے ملک کو محفوظ بنایا ہے، ان شاءاللہ ملکی سرحدوں کے تحفظ کے لئے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے۔ انہوں نے کہا پاکستان کو افغانستان اور بھارت کی طرف سے خطرات ہیں، اس کے مقابلے کے قوم کو متحدہ ہونا ہوگا۔ قاسم علی قاسمی نے کہا دہشت گردی کا آغاز اہل تشیع کی ٹارگٹ کلنگ سے پاکستان میں شروع ہوا، مگر توجہ نہ دی گئی، اب پورے ملک میں دہشت گردی کا ناسور پھیل چکا ہے، اس پر اداروں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ آج بھی فرقہ پرست دہشت گرد کالعدم جماعتیں اجتماعات کرتی اور ان کے رہنما اپنی تکفیری غلاظت بکتی ہیں، مگر سرکاری مشینری انہیں روکنے سے قاصر ہے، یہ سب خلا میں تو نہیں ہو رہا، اس سے لگتا ہے کہ کہیں سے ان کی سرپرستی ہور ہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قاسم علی قاسمی نے کہا
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائےگا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ بجٹ سے پہلے کوئی قانون سازی نہیں ہورہی۔
واضح رہے کہ قبل ازیں قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کیا گیا تھا، تاہم آج قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس اچانک ملتوی کردیا گیا تھا، جس کے بعد واضح ہوگیا تھا کہ 5 جون کو بجٹ پیش نہیں ہوگا۔
قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ حکومت بجٹ سے قبل کوئی اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے، تاہم طارق فضل چوہدری نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews تاریخ کا اعلان طارق فضل چوہدری وفاقی بجٹ وی نیوز