امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے سوال کیا تھا کہ آخر اتنے دباؤ کے باوجود ایران لچک کیوں نہیں دکھا رہا ہے جس پر ایران کا جواب سامنے آگیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ہر گزرتے لمحے کے ساتھ امریکا جوہری معاہدے پر راضی کرنے کے لیے ایران پر مختلف ہربوں سے دباؤ بڑھاتا جا رہا ہے۔

اس کے باوجود تاحال ایران نے ہتھیار نہ ڈالے اور اب تک اپنے اصولی مؤقف پر کھڑا ہے جس پر خود امریکی صدر نے بھی حیرت کا اظہار کیا تھا۔

امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے بقول صدر ٹرمپ نے پوچھا کہ اتنے دباؤ اور خطے میں بحری طاقت کی موجودگی کے باوجود ایران ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیوں نہیں کر رہا۔

جس پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں فخریہ انداز میں کہا کہ ہم اس لیے نہیں جھکتے کیونکہ ہم ایرانی ہیں۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے امریکی صدر کا نام نہ لیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ ہم کیوں نہیں جھکتے؟ کیوں کہ یہ ایرانی قوم کی سرشت میں ہی نہیں ہے۔

دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کے اثرات صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کاظم غریب آبادی کا امریکا اور اسرائیل کا نام لیے بغیر کہنا تھا کہ ایران کے دشمن جنھوں نے 12 روزہ جنگ میں سخت اور دردناک شکست کھائی۔

انھوں نے مزید کہا تھا کہ ایک بار وہی قوتیں افراتفری اور بدامنی کے ذریعے ایک اور فوجی آپریشن کی راہ ہموار کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں۔

کاظم غریب آبادی نے خبردار کیا کہ دشمن جنگ شروع کرنے کے تو قابل ہو سکتے ہیں لیکن اسے ختم وہ نہیں بلکہ ایران کرے گا۔

خیال رہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی اس سے قبل بھی کئی مواقعوں پر ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کی بہادرانہ اور دلیرانہ تاریخ یاد دلا چکے ہیں۔

انھوں نے امریکا کو یاد دلایا تھا کہ کس طرح ہر قسم کی سازش اور طاقت استعمال کرنے کے باجود ایران کو توڑا نہیں جا سکا۔

واضح رہے کہ ایرانی حکام ماضی میں بھی بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ ایران کا جوہری پروگرام دفاعی نوعیت کا ہے اور وہ بیرونی دباؤ یا دھمکیوں کے تحت اپنے قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امریکی صدر کہ ایران تھا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل