ہٹ دھرمی سے مسائل حل نہیں ہوتے، مذاکرات ہی راستہ ہیں، رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی فریق ہٹ دھرمی پر قائم رہے اور بات ماننے کو تیار نہ ہو تو پھر معاملات آگے بڑھانا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سیاست دانوں نے ماضی میں میثاقِ جمہوریت کیا تھا، مگر بعض قیادتوں نے برسوں تک مفاہمت کے بجائے محاذ آرائی کی سیاست کو ترجیح دی، کہا گیا کہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔
عمران خان کی صحت سے متعلق معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق ڈاکٹر ندیم قریشی کو مطالبے پر شامل کیا گیا، طبی ماہرین نے معائنہ کیا اور علاج کو درست قرار دیا۔ ان کے بقول بعض رہنماؤں کو شریک ہونے کی دعوت دی گئی مگر انہوں نے انکار کیا، جبکہ عدالت عظمیٰ میں مزید مطالبات نہ تو پیش کیے گئے یا تسلیم نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب طبی معائنہ ہو چکا اور علاج کی تصدیق بھی ہو گئی تو اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اتحادی حکومت نے ہمیشہ سیاسی مکالمے کی کوشش کی، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب مخالفین اقتدار میں تھے۔ ان کے مطابق حکومت آج بھی ملک کی بہتری کے لیے بات چیت پر آمادہ ہے اور چاہتی ہے کہ تمام جماعتیں پارلیمانی عمل اور کمیٹیوں کا حصہ بنیں تاکہ جمہوری نظام مضبوط ہو۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ بعض حلقے ان سے بات چیت سے گریزاں ہیں جو مذاکرات کے خواہاں ہیں، جبکہ جو آمادہ نہیں اُن سے رابطے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے، تعطل اور ضد سے نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل رانا ثنا اللہ انہوں نے
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔