اسلام آباد وزیرِاعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اگر کوئی فریق ہٹ دھرمی پر قائم رہے اور بات ماننے کو تیار نہ ہو تو معاملات آگے بڑھانا مشکل ہو جاتا ہے حالانکہ سیاست دان ماضی میں میثاقِ جمہوریت جیسے معاہدوں پر متفق ہو چکے ہیں۔

ایوانِ بالا میں اظہارِ خیال کرتے ہوئےرانا ثنا نے کہا کہ سیاست میں برداشت اور مفاہمت بنیادی اصول ہیں مگر بعض رہنما مسلسل محاذ آرائی کی روش اپناتے رہے، اپوزیشن قیادت نے کئی برس تک سخت مؤقف اختیار کیے رکھا جس سے سیاسی ماحول میں تناؤ بڑھا اور مکالمے کی فضا متاثر ہوئی۔

سابق وزیرِاعظم عمران خان کی صحت سے متعلق معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق ڈاکٹر ندیم قریشی کو خود ان کی درخواست پر طبی ٹیم میں شامل کیا گیا تھا،ڈاکٹروں نے معائنہ مکمل کیا اور رپورٹ میں علاج کو درست قرار دیا،وکلا ٹیم کے رکن گوہر علی خان کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی مگر انہوں نے آنے سے انکار کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاملہ عدالت میں بھی زیرِ غور آیا مگر سپریم کورٹ آف پاکستان میں اضافی مطالبات یا تو پیش نہیں کیے گئے یا منظور نہیں ہوئے، جب طبی معائنہ ہو چکا اور ڈاکٹر کی رائے آ چکی تو اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اتحادی حکومت ہمیشہ سیاسی مذاکرات کی حامی رہی ہے، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب موجودہ اپوزیشن اقتدار میں تھی۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو دعوت دی کہ وہ پارلیمنٹ کا فعال حصہ بنیں، قائمہ کمیٹیوں میں شریک ہوں اور جمہوری نظام کے استحکام کے لیے مشترکہ کوشش کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل

پڑھیں:

بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی

راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیراعلیٰ خیبر پی کے  محمد سہیل آفریدی نے اپنی اور صوبائی مشیر خزانہ کی بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی سے بجٹ پر رہنمائی حاصل کرنا ضروری‘ اس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔ علیمہ خان کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں مزید دیوار سے لگانے کی کوشش اور ملاقات کا حق نہ دیا گیا تو 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پی کے میں حکومت عمران خان کی ہے، اسے ان کے سوا کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس نہ موثر داخلہ پالیسی ہے اور نہ ہی خارجہ پالیسی۔ آنے والا وفاقی بجٹ عوام پر ایک معاشی ایٹم بم ہوگا۔ 

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی