موٹرسائیکلوں پر ایم ٹیگ لگوانے کی آخری تاریخ مقرر، ڈی جی ایکسائز نے بڑا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں موٹر سائیکل ایم ٹیگ مہم کے دوسرے مرحلے کے تحت ڈی جی ایکسائز نے موٹر سائیکل مالکان کے لیے واضح ڈیڈ لائن کا اعلان کردیا۔
مزید پڑھیں: ایم ٹیگ سروس یا آزمائش، موٹرسائیکل سوار پریشان
موٹر سائیکلز پر ایم ٹیگ لگوانے کی آخری تاریخ 28 فروری مقرر کی گئی ہے۔ یکم مارچ سے بغیر ایم ٹیگ موٹر سائیکل چلانے پر کارروائی ہوگی، اور ایسے موٹر سائیکلوں کو تھانوں میں منتقل کیا جائے گا۔
ڈی جی ایکسائز کے مطابق یکم مارچ سے اسلام آباد میں بغیر ایم ٹیگ موٹر سائیکل چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
دوسرے مرحلے کے دوران اب تک 2 ہزار سے زیادہ موٹر سائیکلوں کو ایم ٹیگ جاری کیے جا چکے ہیں۔
ڈی جی ایکسائز عرفان میمن کے مطابق شہریوں کی سہولت کے لیے ایم ٹیگ سینٹرز میں اضافی عملہ تعینات کیا گیا ہے اور چھٹی کے روز بھی سینٹرز کھلے رہیں گے۔
مزید پڑھیں: موٹر بائیکس پر ایم ٹیگ لگانے کا عمل شروع، فیس کتنی ہے اور کہاں سے لگوا سکتے ہیں؟
ڈی جی ایکسائز نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ شہر کو محفوظ بنانے کے لیے حکومتی اقدامات میں تعاون کریں اور مقررہ ڈیڈ لائن سے پہلے اپنے موٹر سائیکلز پر ایم ٹیگ لازمی لگوائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آخری تاریخ مقرر ایم ٹیگ موٹرسائیکل وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آخری تاریخ مقرر ایم ٹیگ موٹرسائیکل وی نیوز ڈی جی ایکسائز موٹر سائیکل پر ایم ٹیگ کے لیے
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔