کراچی: کورنگی کراسنگ پل کے قریب آئل ٹینکر کی موٹرسائیکل کو ٹکر، کمسن بچی جاں بحق، بھائی اورچچا زخمی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
کراچی میں کورنگی کراسنگ پل کے قریب آئل ٹینکر کی موٹر سائیکل کو ٹکر سے بائیک سوار ایک بچی جاں بحق اور دو افراد زخمی ہوگئے۔
ریسکیو حکام نے بتایا کہ حادثے میں موٹر سائیکل پر سوار تین سالہ بچی ساہرہ جاں بحق ہوئی تھی، پولیس کے مطابق حادثے میں ساہرہ کا ایک سالہ بھائی سبحان اور چچا راج محمد زخمی ہوئے تھے۔
پولیس نے بتایا کہ جاں بحق بچی کا والد کراچی میں محنت مزدوری کرتا ہے، آبائی تعلق گلگت بلتستان سے ہے، بچی اپنے چچا اور بھائی کے ساتھ جوس خریدنے جارہی تھی۔
کورنگی کراسنگ کے قریب تیز رفتار آئل ٹینکر نے موٹر سائیکل کو ٹکر ماری، حادثے کے زمہ دار ڈرائیور کو شہریوں نے پکڑ کر زمان ٹاؤن پولیس کے حوالے کردیا، ٹینکر تحویل میں لے کر تھانے منتقل کردیا گیا، قانونی کارروائی جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔