ڈاکٹرعافیہ کیس میں بڑافیصلہ: وزیراعظم اورکابینہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ڈاکٹرعافیہ صدیقی کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم کر دی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کےلارجربینچ نے وزیراعظم اوروفاقی کابینہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کاحکم واپس لے لیا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق اکیس جولائی 2025 کاحکم اُس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا، لہٰذا سنگل بینچ کا فیصلہ واپس لیا جاتا ہے۔
قواعد کےتحت ہائیکورٹ کےچیف جسٹس ہی ماسٹرآف دی روسٹر ہیں اور بینچ تشکیل دینے کا خصوصی اختیار رکھتے ہیں۔ سماعت کاعدالتی اختیارصرف اُس وقت ہوگاجب چیف جسٹس کےاختیارسےبینچ تشکیل دیاجائے۔ روسٹریابینچ کی تشکیل چیلنج کرنےکا معاملہ اندرونی انتظامی طریقۂ کارکےذریعےاٹھایاجائےگا۔ یہ معاملہ خود ساختہ عدالتی کارروائی ک ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔