عافیہ صدیقی کیس کا بڑا فیصلہ آگیا،توہین عدالت کاحکم معطل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)ڈاکڑعافیہ صدیقی کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم کر دی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کےلارجربینچ نے وزیراعظم اوروفاقی کابینہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کاحکم واپس لے لیا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق اکیس جولائی 2025 کاحکم اُس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا، لہٰذا سنگل بینچ کا فیصلہ واپس لیا جاتا ہے۔ قواعد کےتحت ہائیکورٹ کےچیف جسٹس ہی ماسٹرآف دی روسٹر ہیں اور بینچ تشکیل دینے کا خصوصی اختیار رکھتے ہیں۔ سماعت کاعدالتی اختیارصرف اُس وقت ہوگاجب چیف جسٹس کےاختیارسےبینچ تشکیل دیاجائے۔ روسٹریابینچ کی تشکیل چیلنج کرنےکا معاملہ اندرونی انتظامی طریقۂ کارکےذریعےاٹھایاجائےگا۔ یہ معاملہ خود ساختہ عدالتی کارروائی ک ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔