”جسارت “اور بنگلادیشی اخبار ”ڈیلی سنگرام “کے درمیان خبروں کے تبادلے واشاعت کا معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی/ڈھاکا: روزنامہ جسارت اور بنگلادیش کے معروف اخبار ”ڈیلی سنگرام “کے درمیان خبروں کے تبادلے و اشاعت کے حوالے سے ایک معاہدہ طے پاگیا ہے۔اس مفاہمتی یادداشت پر ایم ڈی دی ڈ یلی سنگرام ڈاکٹر محمد نور الامین اور سی او او ڈ یلی جسارت سید طاہر اکبر نے دستخط کیے۔
مفاہمتی یادداشت کا مقصد فریقین کے درمیان باہمی خبروں کے تبادلے اور اشاعت کے لیے تعاون کا ایک فریم ورک قائم کرنا ہے تاکہ صحافتی اشتراک کو فروغ دیا جاسکے اور بنگلادیش اور پاکستان کے درمیان میڈیا تعلقات کو مضبوط بنایا جاسکے۔فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے ممالک سے متعلق منتخب خبریں، فیچرز، اداریے اور خصوصی رپورٹس شائع کریں گے۔
ڈیلی جسارت ہر ہفتے ایک (1) مکمل صفحہ بنگلادیش سے متعلق خبروں، تجزیوں اور فیچرز پر مشتمل شائع کرے گا۔اس ہفتہ وار صفحے کا مکمل مواد ڈیلی سنگرام فراہم کرے گا۔
اسی طرح ڈیلی سنگرام ہر ہفتے ایک (1) مکمل صفحہ پاکستان سے متعلق خبروں، تجزیوں اور فیچرز پر مشتمل شائع کرے گا۔اس ہفتہ وار صفحے کا مکمل مواد ڈیلی جسارت فراہم کرے گا۔مواد فریقین کی باہمی رضامندی سے طے شدہ وقت کے مطابق بروقت فراہم کیا جائے گا۔ہر فریق اپنے فراہم کردہ مواد کی صداقت، قانونی حیثیت اور درستی کا خود ذمے دار ہوگا۔وصول کنندہ فریق کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ فارمیٹنگ، زبان یا مقامی اشاعتی معیارات کے مطابق معمولی ادارتی ترامیم کرے، بشرطیکہ مواد کے بنیادی مفہوم میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔
یہ تعاون باہمی مفاہمت اور خیر سگالی کی بنیاد پر ہوگا۔جب تک تحریری طور پر کوئی اور معاہدہ نہ کیا جائے، اس مفاہمتی یادداشت کے تحت مواد کے تبادلے اور اشاعت کے عوض کسی بھی فریق کی جانب سے کوئی مالی ادائیگی واجب نہیں ہوگی۔ مشترکہ مواد کے تمام دانشورانہ حقوق اس فریق کے پاس محفوظ رہیں گے جو مواد فراہم کرے گا۔ وصول کنندہ فریق مواد کی اشاعت کے وقت مناسب طور پر ماخذ کا حوالہ دے گا۔یہ مفاہمتی یادداشت دستخط کی تاریخ سے ایک (1) سال کی ابتدائی مدت کے لیے مؤثر ہوگی۔باہمی تحریری رضامندی سے اس کی تجدید کی جاسکتی ہے۔کوئی بھی فریق تیس (30) دن کا تحریری نوٹس دے کر اس مفاہمتی یادداشت کو ختم کرسکتا ہے۔
اس مفاہمتی یادداشت کے سلسلے میں فریقین کے درمیان تبادلہ ہونے والی کوئی بھی خفیہ معلومات، پیشگی تحریری اجازت کے بغیر کسی تیسرے فریق کو ظاہر نہیں کی جائیں گی۔اس مفاہمتی یادداشت میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا تبدیلی صرف تحریری صورت میں اور فریقین کے دستخط سے مؤثر ہوگی۔یہ مفاہمتی یادداشت فریقین کی باہمی مفاہمت اور نیت کی عکاس ہے اور جب تک کسی علیحدہ معاہدے میں واضح طور پر ذکر نہ کیا جائے، یہ کوئی قانونی طور پر پابند شراکت داری قائم نہیں کرتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اس مفاہمتی یادداشت ڈیلی سنگرام کے تبادلے کے درمیان اشاعت کے کرے گا
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔