اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یوناما) سے متعلق مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، جن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ادارہ بعض غیر مصدقہ دعوؤں کو نمایاں کرتے ہوئے افغانستان میں موجود دہشتگرد نیٹ ورکس کے معاملے کو نظر انداز کررہا ہے۔

مزید پڑھیں: افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں، کالعدم ٹی ٹی پی کن علاقوں میں موجود ہے؟

رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی متعدد نگرانی رپورٹس میں اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ قریباً 20 کے قریب دہشتگرد گروہ افغان سرزمین پر سرگرم ہیں، جو سرحد پار حملوں اور علاقائی عدم استحکام کے لیے افغانستان کو اڈے کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یوناما کی جانب سے اس خطرے کو مطلوبہ اہمیت نہ دینا تشویش کا باعث ہے۔

مزید برآں روس کی وزارتِ خارجہ سمیت بعض دیگر ممالک بھی خبردار کر چکے ہیں کہ افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

مبصرین کے مطابق افغانستان کے ہمسایہ ممالک، جن میں روس، ایران، پاکستان، چین اور وسطی ایشیائی ریاستیں شامل ہیں، متعدد بار دہشتگرد نیٹ ورکس کے پھیلاؤ پر خدشات ظاہر کر چکے ہیں۔

تنقید کرنے والے حلقوں کا مؤقف ہے کہ اگر کسی بھی بین الاقوامی ادارے کی رپورٹس یا بیانات یک طرفہ معلومات پر مبنی ہوں تو اس سے ادارہ جاتی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد ڈھانچے اور محفوظ پناہ گاہوں کے مسئلے کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا چکا ہے، لہٰذا اس تناظر کو نظر انداز کرنا حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔

مزید پڑھیں: افغانستان دہشتگردی کا سرپرست، ایسے عناصر کا زمین کے آخری کونے تک پیچھا کریں گے، خواجہ آصف

دوسری جانب یوناما کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم ماہرین کے مطابق افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے شفاف اور جامع رپورٹنگ علاقائی استحکام اور بین الاقوامی اعتماد کے لیے ناگزیر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews افغانستان اقوام متحدہ ادارہ تحفظات دہشتگرد گروپ نظر انداز وی نیوز یوناما.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان اقوام متحدہ ادارہ تحفظات دہشتگرد گروپ وی نیوز یوناما افغانستان میں اقوام متحدہ کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک

سٹی 42: بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک  ہوئے ۔

 آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے مستونگ، نوشکی، ژوب، خضدار اور کیچ میں آپریشنز کیے گئے ۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں 17 دہشتگرد مارے گئے،

ہلاک دہشتگردوں کا تعلق فتنہ الہندوستان سے تھا، دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر کارروائی میں نشانہ بنایا گیا۔ہلاک دہشتگرد متعدد دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث تھے،دہشتگردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور بڑی تعداد میں دھماکا خیز مواد برآمد ہوا۔ تیار شدہ آئی ای ڈیز بھی دہشتگردوں سے برآمد کر لی گئیں۔علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری کییے ۔ 

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 آئی ایس پی آر کے مطابق عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشتگردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی،ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت