data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کیف: روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے تناظر میں امن مذاکرات کے ایک اور دور کی تیاریاں تیز ہو گئی ہیں اور یوکرین کے صدارتی دفتر کے سربراہ کیریلو بودانوف نے عندیہ دیا ہے کہ اگلا مرحلہ چھبیس یا ستائیس فروری کو منعقد ہو سکتا ہے، جسے تنازع کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کن مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق بودانوف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اس مقام کے قریب پہنچ چکے ہیں جہاں فریقین کو حتمی فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا جنگ جاری رکھنی ہے یا امن کی طرف بڑھنا ہے، سفارتی کوششوں کا مقصد تنازع کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے، تاہم حتمی پیش رفت کا انحصار دونوں جانب کے سیاسی فیصلوں پر ہوگا۔

یوکرینی حکام کے مطابق اسی ہفتے قیدیوں کے تبادلے کا بھی امکان ہے، اس حوالے سے کام جاری ہے اور امید ہے کہ یہ تبادلہ اسی ہفتے ممکن ہو جائے گا، اس بار قیدیوں کی تعداد گزشتہ تبادلوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہو سکتی ہے، مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلینسکی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ روس کے ساتھ مذاکرات کا نیا دور فروری کے اختتام سے پہلے ہونا چاہیے،آئندہ مذاکرات میں یورپی ممالک کی شرکت ضروری ہے، جن میں فرانس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور میزبان ملک سوئٹزرلینڈ شامل ہوں، تاکہ سفارتی عمل کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔

یاد رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات کا تیسرا دور سترہ اور اٹھارہ فروری کو جنیوا میں ہوا تھا، جبکہ اس سے قبل دو ادوار متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں منعقد ہوئے تھے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یوکرین کے

پڑھیں:

امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔

منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار