data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بغداد: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے خدشات کے درمیان امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کے نئے دور سے قبل سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں جبکہ عراق اور عمان نے بھی مذاکرات کی کامیابی کے لیے مشترکہ حمایت کا اظہار کیا ہے۔

عراقی وزیر خارجہ فؤاد حسین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ ان کا اپنے عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر پر زور دیا کہ بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا ضروری ہے تاکہ خطے کو مزید کشیدگی اور تصادم کے خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

اطلاعات کے مطابق امریکا اور ایران کے نمائندے جمعرات کو جنیوا میں دوبارہ مذاکرات کے لیے ملیں گے، جہاں ممکنہ جوہری معاہدے پر بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھایا جائے گا، خطے میں جاری تنازعات اور بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کے باعث عالمی برادری ان مذاکرات کو انتہائی اہمیت دے رہی ہے۔

بیان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ میں سمندری نقشوں اور جغرافیائی حدود جمع کرانے کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ عراق نے اس حوالے سے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ استحکام اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے مذاکرات ہی مؤثر راستہ ہیں۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں عراق اور کویت کے درمیان سمندری حدود کے تعین پر تنازع سامنے آیا ہے۔ بغداد کی جانب سے اقوام متحدہ میں جمع کرائے گئے نقشوں پر کویت نے اعتراض کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ اس کی علاقائی حدود کی خلاف ورزی ہے۔ دونوں تیل پیدا کرنے والے ہمسایہ ممالک کے درمیان یہ معاملہ ماضی کی کشیدگی کی یاد تازہ کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ اگست انیس سو نوے میں اُس وقت کے عراقی صدر صدام حسین کے دور میں عراق نے کویت پر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں خلیجی جنگ چھڑ گئی اور امریکی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد نے عراقی افواج کو کویت سے بے دخل کیا۔ دو ہزار تین میں صدام حکومت کے خاتمے کے بعد بغداد اور کویت کے سفارتی تعلقات بحال ہوئے، سمندری حدود کے بعض معاملات اب بھی دو طرفہ مذاکرات کے متقاضی ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے درمیان

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا