جرمنی کا امریکی سفیر کے بیان سے اظہارِ لاتعلقی، دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برلن: جرمنی نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے اس بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل کو دریائے نیل سے دریائے فرات تک کی سرزمین پر بائبلی حق حاصل ہے، اس کا مؤقف بین الاقوامی قانون اور دو ریاستی حل کے اصول پر مبنی ہے۔
جرمن وزارتِ خارجہ کی ترجمان کاترین ڈیشاؤر نے برلن میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ حکومت نے خطے کے متعدد ممالک کے ردِعمل کا نوٹس لیا ہے اور جرمنی کا مؤقف ایک بار پھر واضح ہے کہ مغربی کنارہ، غزہ اور مشرقی یروشلم مستقبل کی فلسطینی ریاست کی بنیاد ہیں،یہی وہ فریم ورک ہے جس کی بنیاد پر جرمنی اپنی سفارتی پالیسی آگے بڑھاتا ہے۔
امریکا کے اسرائیل میں سفیر Mike Huckabee کے بیان پر عرب ممالک نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے اشتعال انگیز اور بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیا تھا۔
جرمنی نے ایک بار پھر اسرائیلی بستیوں کی توسیع کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات امن کے بجائے قبضے کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔ برلن کا کہنا ہے کہ بستیوں کی توسیع ایک متفقہ اور مذاکراتی دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچاتی ہے اور بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے متصادم ہے، جن میں International Court of Justice کے فیصلے بھی شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔
مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔