Jasarat News:
2026-07-23@23:25:01 GMT

بیرونی قرضے138ارب ڈالرز کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور : موجودہ حکومت کے دور میں بیرونی قرضے 138 ارب ڈالرز کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے، 3 سالوں میں بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں 84 فیصد کا ہوشربا اضافہ ہو جانے کا انکشاف۔

 پاکستان کے بیرونی قرضوں کے حوالے سے تازہ ترین اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے گزشتہ مالی سال میں 10.

6ارب ڈالر کا نیا قرضہ لیا۔وفاق نے 8.6اور صوبوں نے 1.9ارب ڈالر کا نیا قرض لیا۔

 ملٹی لیٹرل ڈویلپمنٹ پارٹنرز سے 5.06ارب ڈالر قرض ملا، ایشیائی ترقیاتی بینک نے سب سے زیادہ 2.2ارب ڈالر کا قرض دیا۔ عالمی بینک نے 1.9ارب ڈالر کا قرض دیا، ایشیائی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ بینک نے 89کروڑ ڈالر کا قرض دیا۔ جبکہ پاکستان کے ذمے بیرونی قرضوں اور واجبات کا حجم 138 ارب ڈالر سے تجاوزکر گیا۔

قرضوں پر سود کی ادائیگی میں گزشتہ تین برسوں کے دوران 84فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیاگیا،تین سال کے دوران صرف سودکا حجم ایک ارب 91کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 3ارب 59کروڑ تک پہنچ گیا۔

دستاویزکے مطابق پاکستان کے بیرونی قرضوں پرسود کی ادائیگی میں 84فیصد اضافہ ہوا، 3سال میں سود کا حجم بڑھ کر 3.59ارب ڈالر تک پہنچ گیا،بیرونی قرضوں پر سود 3سال پہلے تک 1.91ارب ڈالر تھا،2022کے مقابلے گزشتہ سال سود کی ادائیگی 1.67ارب ڈالر بڑھ گئی۔

یہ سود آئی ایم ایف، عالمی بینک،اے ڈی بی، کمرشل بینکوں کو ادا کیا گیا،پاکستان بیرونی قرضوں پر 8 فیصد تک کی شرح سے سود ادا کررہا ہے۔دستاویز کے مطابق سعودی عرب اور چین نے بھی سیف ڈیپازٹس پرسود وصول کیا۔

سود سمیت قرضوں کی ادائیگی پرسالانہ 13 ارب 32کروڑ ڈالرخرچ ہوئے،پاکستان کے نیٹ بیرونی قرضوں میں گزشتہ سال 1.71ارب ڈالر اضافہ ہوا۔

پاکستان نے 11کروڑ 44لاکھ ڈالر قرض لیا،9.73ارب ڈالر اصل رقم واپس کی بیرونی کمرشل قرض پر32کروڑ 70لاکھ ڈالرسود سمیت 3ارب ڈالر خرچ ہوئے،آئی ایم ایف کو 2.10ارب ڈالر کی ادائیگی، 58کروڑ ڈالر سود بھی شامل ہے۔

Faiz alam babar ویب ڈیسک

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سود کی ادائیگی پاکستان کے ارب ڈالر ڈالر کا

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز

تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ