data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بیروت: ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں لبنان میں واقع امریکی سفارتخانے سے درجنوں اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کو عارضی طور پر واپس بلا لیا گیا ہے جبکہ سفارتی مشن کو محدود عملے کے ساتھ فعال رکھا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی کہ غیر ہنگامی نوعیت کے سرکاری اہلکاروں اور اہلِ خانہ کو رفیق حریری انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے روانہ کیا گیا، سیکیورٹی ماحول کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور حالیہ حالات کے پیشِ نظر عملے کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ احتیاطی اقدام کے طور پر کیا گیا ہے، یہ اقدام عارضی ہے اور سفارتخانہ بنیادی عملے کے ساتھ بدستور کام کر رہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ سفارتخانے کے اہلکاروں پر پیشگی اجازت کے بغیر ذاتی سفر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور سیکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر کسی بھی وقت مزید سفری پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ بیروت میں واقع United States Embassy in Beirut نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی شہریوں کی معاونت جاری رکھی جائے گی۔

دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جوہری معاہدے پر بات چیت کا نیا دور جمعرات کو جنیوا میں متوقع ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر دس سے پندرہ دن کے اندر کسی معاہدے تک پیش رفت نہ ہوئی تو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی