جرم بصارت کی جسارت (آخری حصہ)
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
نیٹ میٹرنگ کے معاہدوں کے مطابق متعلقہ تمام ڈسکو کو دیے گئے اضافی یونٹس کے بدلے صارفین کو اتنے یونٹ دیے جائیں۔ یونٹ کے بدلے یونٹ لینے کے بعد اگر صارف کا بیلنس رہ جائے تو 27.5 روپے کے حساب سے ادائیگی کی جائے گی اور اگر صارف نے ایکسپورٹ کیے گئے یونٹ سے زیادہ یونٹ استعمال کیے تو صارف 37 سے 55 روپے فی یونٹ ادا کریگا۔ چند دن پہلے بجلی اور توانائی کے وفاقی وزیر اویس احمد لغاری نے 4 لاکھ 60 ہزار صارفین کو پریشانی میں مبتلا کر دیا، ماں اپنے بچوں سے کیے وعدے کبھی نہیں توڑتی، مگر ماں جیسی ریاست نے اپنے کیے گئے معاہدوں کو یک جنبش قلم منسوخ کر دیا، اور اعلان کیا کہ اب نیٹ میٹرنگ نہیں نیٹ بلنگ ہوگی۔
یعنی یونٹ کے بدلے یونٹ نہیں، دن کے وقت صارفین کے ایکسپورٹ کیے گئے یونٹس کو 11.
نیٹ بلنگ کے پھندے کے ساتھ سولر صارفین چیخ اٹھے، ویسے بھی یہ صرف 4 لاکھ 60 ہزار موجودہ صارفین کا معاملہ نہیں، یہ ان لوگوں کا مسئلہ بھی ہے جو سولر پینلز لگانے کا سوچ رہے ہیں۔ ذرا سوچیں کہ ایک طرف اشرف العوام قسم کے سرمایہ داروں نے بینکوں سے اربوں روپے کے آسان شرائط قرضے لے کر جو آئی پی پیز لگائے ہیں ان کو تو حکومتی ارباب عوام کی جبیوں سے اربوں روپے نکال کر بغیر بجلی پیدا کیے کیپیسٹی چارجز ادا کر رہے ہیں اور اپنی حلال کمائی پر اپنے گھروں کے چھتوں پر ماحول دوست منی گرین آئی پی پیز لگانے والوں کو اپنی پیدا کردہ بجلی چار گنا قیمت پر بیچ رہے ہیں۔
نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ پر جانے کے لیے جو جواز پیش کیے جارہے ہیں وہ مضحکہ خیز ہیں۔ وزیر موصوف فرماتے ہیں کہ ایک بلب اور پنکھا چلانے والوں نے ایک سولر پینل اور بیٹری لگا کر واپڈا سے جان چھڑائی، 4 لاکھ 60 ہزار سے زیادہ منی گرین کے مالکان (عام عوام) نے سرکاری بجلی لینا بند کردی تو بلنگ کم ہوئی جس کی وجہ سے حکومت کو ادائیگیاں کرنا مشکل ہوگئی۔ تو نیٹ میٹرنگ کے بجائے نیٹ بلنگ کی آڑ میں عوام کی جیبوں سے رقم نکال کر اس نقصان کو پورا کیا گیا۔ ہر صارف پر فکسڈ چارجز لگائے گئے، سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین (جن سے مفت بجلی کا وعدہ تھا) کو بھی ہر ماہ فکسڈ چارجز دینے پڑیں گے چاہے بجلی استعمال کرے یا نہ کرے۔
دو سو اور دو سو سے زیادہ یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے دو سو روپے اور 600 یا 600سے زائد یونٹ استعمال کرنے والے صارفین پر 675 روپے فکسڈ چارجز دینے پڑیں گے کیوں کہ حکومت نے انڈسٹری کے لیے جو بجلی 4سے 4 روپے 58پیسے فی یونٹ سستی کی تھی اس رعایت کا بوجھ بھی عام عوام کی جیبوں پر ڈال کر پورا کریں گے۔ یعنی مونچھوں کو تاؤ شہباز شریف اور حکومتی وزراء دیں گے اور مال غریب عوام کا بانٹا جائے گا۔ اسے عوام دشمن ترجیحات نہ کہیں تو اور کیا نام دیں گے؟
نیپرا کا کہنا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے باعث بجلی کے نظام پر مالی دباؤ بڑھ رہا تھا۔ نیپرا کے مطابق گرڈ کے بنیادی اخراجات برقرار رہتے ہیں جب کہ سولر صارف کم بل ادا نہیں کرتے یا کم بل ادا کرتے ہیں جس کی وجہ سے ڈسکوز مالی بحران کا شکار ہو رہے تھے اس لیے نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی طرف جانا پڑا۔یہ منطق سمجھ سے بالا تر ہے کیونکہ سولر صارفین نے یہ منی آئی پی پیز ان کی ترغیبات اور نیٹ میٹرنگ کی پالیسی کی وجہ سے ہی لگائے تھے یہ سولر صارفین کے لیے محض توانائی کا منصوبہ نہیں بلکہ اندھیروں اور ہوشربا بلوں سے نجات، عزتِ نفس کو بچانے، اپنی مدد آپ اور خود انحصاری کا منصوبہ تھا۔
عام عوام کی یہ خواب و خواہش کہ ان کے بچوں کی پڑھائی متاثر نہ ہو، کاروبار نہ رکے اور ہر ماہ آنے والا بل گھر کے بجٹ کو تباہ نہ کرے کوئی جرم نہیں۔ نیٹ میٹرنگ نے اس خواب و خواہش کو حقیقت کا روپ دیا کہ دن میں اضافی بجلی بنے گی تو وہ رات کے اندھیرے میں کام آئے گی جب یونٹ کے بدلے یونٹ ملے گے مگر نیٹ بلنگ کی نئی پالیسی نے اس توازن کو بگاڑ کر رکھ دیا، سولر صارفین اور عام عوام یہ جسارت کرنے میں حق بجانب ہے کہ ان کے اربوں روپے خرچ کروانے کے بعد معاہدے توڑ کر نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی پالیسی پر کیوں چلے گئے؟
کیا نیٹ بلنگ کی پالیسی بناتے وقت ان گھروں کی کہانی بھی سامنے رکھی گئی جہاں بیٹی کی چوڑیاں بیچ کر سولر سسٹم لگایا گیا؟ کیا اس اعتماد کا بھی خیال رکھا گیا جو عوام نے حکومتی پالیسی پر کیا تھا؟
ریاستی اور حکومتی فیصلے تدبر و فراست سے معمور اور عوامی فلاح سے لبریز ہونے چاہیں اس میں دو رائے نہیں نہ صرف بجلی بلکہ ہر نظام اور پالیسی کو جامع، پائیدار ہونا چاہیے مگر یہ پائیداری صرف مالیاتی نہیں، عوامی فلاح سے لبریز پالیسیوں کے تسلسل اور عوامی اعتماد سے آتی ہے۔ اگر آج سرمایہ کاری ایک ماڈل کے تحت کی جائے اور کل وہ ماڈل بدل جائے تو نقصان صرف چند صارفین کا نہیں، ملک و ملت کا ہوگا کیونکہ پورا شعبہ غیر یقینی کا شکار اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوگا۔
بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ، آئی پی پیز کے معاہدے، گرڈ کے مالی مسائل، یہ سب اپنی جگہ حقیقت ہیں مگر کیا ان مسائل کا حل ان سولر صارفین جنھوں نے اپنا سرمایہ لگا کر ریاست کا بوجھ کم کیا کی جبیوں پر ڈاکہ ڈالنے کے علاوہ کوئی نہیں؟ سولر پالیسی بدلنے کا مقصد سولر صارفین کو خود انحصاری کے جرم کی سزا دینے کے علاوہ اور کیا ہوسکتی ہے ؟
نیٹ بلنگ پالیسی سے جہاں پوری قوم میں اضطراب اور غصہ پایا جاتا ہے وہاں بہت سے سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ پاکستان کی اقتصادی حالت کو دیکھتے ہوئے درآمدی ایندھن پر انحصار ختم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں جس کے لیے تمام ملکی اور غیر ملکی آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے تمام معاہدے کینسل کرنے اور ملک کو گرین سولر انرجی انقلاب کی طرف لے کر جانا، اور سولر صارفین کو شراکت دار سمجھ کر ان سے ہر ممکن تعاون کرنا پڑے گا اور انھیں یہ احساس دلانا ہوگا کہ انھوں نے گرین منی آئی پی پیز لگا کر جرم نہیں ملک و ملت پر احسان کیا ہے۔ کیا ستم ظریفی ہے کہ دنیا جہاں سولر اور گرین انرجی کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے، وہاں پاکستان میں اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرکے ماحولیاتی آلودگی سے لبریز متروک ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کو پروموٹ کیا جارہا ہے۔
سولر پالیسی میں ایسی ظالمانہ تبدیلی بہت سی انسانی کہانیوں سے جڑی ہیں جب اس قسم کی پالیسیاں بدلتی ہیں تو اس کی بازگشت صرف فائلوں میں نہیں، گھروں کے کمروں سے نکل کر بازاروں اور سڑکوں پر سنائی دیتی ہیں اور جب یہ بازگشت پھر بھی نہ سنی جائے تو پھر کبھی ملک سری لنکا اور کبھی بنگلہ دیش بن جاتا ہے اور بسا اوقات حکمرانوں کو بھاگنے کا موقع بھی نہیں دیا جاتا۔ اگر چہ وزیراعظم صاحب نے موجودہ سولر صارفین کے معاملے پر نظر ثانی کے احکامات جاری کر دیے ہیں مگر پتہ نہیں یہ عام عوام کی گردن پر صرف تیل لگانے کے لیے پھندا ڈھیلا کیا گیا ہے یا اس سے کوئی خیر نکلے گی سولر صارفین اور عام عوام کے لیے؟
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سولر صارفین نیٹ بلنگ کی نیٹ میٹرنگ ا ئی پی پیز اربوں روپے کی پالیسی صارفین کے صارفین کو سولر صارف عام عوام کے بدلے عوام کی رہے ہیں کیے گئے کے لیے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔