data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: امریکی سیاست اور میڈیا کے تعلقات میں ایک نئی کشیدگی اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹریمنگ کمپنی نیٹ فلکس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی بورڈ ممبر سوسن رائس کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دے، بصورت دیگر سنگین نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق تنازع اس وقت شروع ہوا جب سوسن رائس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ کچھ کمپنیاں جو ریپبلکن دباؤ کے سامنے جھک گئیں، اگر ڈیموکریٹس دوبارہ اقتدار میں آئے تو انہیں نرمی کی توقع نہیں رکھنی چاہیے، یہ معاملہ “معاف کرو اور بھول جاؤ” کا نہیں بلکہ قومی مفاد سے جڑا سنجیدہ مسئلہ ہے، بعض کارپوریٹ فیصلے امریکی عوام کے مفادات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

رائس کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے  کہا کہ نیٹ فلکس کو فوری اقدام کرتے ہوئے انہیں بورڈ سے ہٹانا چاہیے،ان کے پاس کوئی غیر معمولی صلاحیت نہیں اور وہ محض سیاسی چالیں چلنے والی شخصیت ہیں جن کا اثر و رسوخ کم ہو چکا ہے۔ ٹرمپ نے کمپنی سے یہ سوال بھی کیا کہ رائس کو کس مقصد کے لیے اور کتنی تنخواہ دی جا رہی ہے۔

ابھی تک نیٹ فلکس یا سوسن رائس کی جانب سے صدر کے بیان پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نیٹ فلکس

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار