بھارت میں کشمیری شال فروشوں پر بڑھتے ہوئے حملے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
رپورٹ میں ضلع کپواڑہ سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ تابش احمد گنائی کے کیس کا حوالہ دیا گیا ہے جس پر بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے علاقے وکاس نگر میں ایک ہندو دکاندار نے لوہے کی سلاخ سے حملہ کیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ الجزیرہ کی طرف سے شائع کردہ ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کی مختلف ریاستوں میں کشمیری شال فروشوں کو نشانہ بنانے کے لئے حملوں، ہراساں کرنے اور ڈرانے دھمکانے کے واقعات میں پریشان کن اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو روزگار کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ذرائع کے مطابق الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے ہزاروں تاجر سردیوں میں کشمیری شال اور دستکاری کی دیگر مصنوعات فروخت کرنے کے لیے بھارت کے مختلف علاقوں کا سفر کرتے ہیں۔ تاہم حالیہ ہفتوں میں نفرت انگیزحملوں نے بہت سے لوگوں کو اپنی نقل و حرکت محدود کرنے یا گھر واپس آنے پر مجبور کیا ہے۔ رپورٹ میں ضلع کپواڑہ سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ تابش احمد گنائی کے کیس کا حوالہ دیا گیا ہے جس پر بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے علاقے وکاس نگر میں ایک ہندو دکاندار نے لوہے کی سلاخ سے حملہ کیا تھا۔ ایک وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور نوجوان کو مارتے ہوئے فرقہ پرستی کی باتیں کرتا ہے۔ متاثرہ نوجوان کے سر پر چوٹیں اور فریکچر ہوا ہے۔ تابش نے الجزیرہ کو بتایا کہ مجھے صرف ایک کشمیری مسلمان کے طور پر شناخت ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔
ایک اور شال فروش بلال احمد پر اتراکھنڈ کے ضلع کاشی پور میں اس وقت حملہ کیا گیا جب اس نے قوم پرست نعرہ لگانے سے انکار کر دیا۔ اس واقعے کے بعد اس نے حفاظتی خدشات کی وجہ سے اپنا کاروبار بند کر دیا اور کشمیر واپس چلا گیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پنجاب، ہماچل پردیش، ہریانہ اور بھارت کی دیگر شمالی ریاستوں میں بھی ایسے ہی واقعات پیش آئے ہیں۔ ہماچل پردیش کے ضلع کانگڑا میں ایک ریٹائرڈ فوجی اہلکار نے سوشل میڈیا پر کشمیری پھیری والوں کو ہراساں کرنے کے لئے دھمکی آمیز اور توہین آمیز باتیں کیں۔ پولیس نے مبینہ طور پر مقدمہ درج کرنے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی۔ الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 2019ء کے بعد سے جب مودی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی جزوی خودمختاری ختم کر دی اور اسے براہ راست وفاقی کنٹرول میں لایا، علاقے میں معاشی مشکلات مزید بڑھ گئیں جس کی وجہ سے بہت سے نوجوان کشمیر سے باہر روزگار تلاش کرنے پر مجبور ہو گئے۔
تاہم حالیہ مہینوں میں بڑھتے ہوئے حملوں اور ہراساں کرنے کے تقریباً 200 واقعات نے کشمیری تاجروں اور طلباء میں خوف کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ اور پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی سمیت سیاسی رہنمائوں نے بھارت بھر میں کشمیریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیری تاجروں پر بار بار حملوں اور ہراساں کئے جانے سے نہ صرف ان کی روزی روٹی خطرے میں پڑتی ہے بلکہ اسے خوف کے ماحول کو بھی تقویت ملتی ہے جس سے بہت سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رپورٹ میں کی وجہ سے کرنے کے گیا ہے بہت سے
پڑھیں:
آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی دھکمی دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا تو امریکہ اس کے جواب میں ایران کا ایک پل یا ایک پاور پلانٹ تباہ کر دے گا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹر مپ نے لکھا کہ آج سے اگر اسلامی جمہوریہ ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی بھی دوسرے ہتھیار سے حملہ کرتا ہے تو امریکہ اس کے بدلے میں ایران کا ایک پل یا ایک پاور پلانٹ تباہ کرے گا، جن میں تہران کے اندر یا اس کے قریب واقع تنصیبات بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہو۔ گزشتہ ہفتے ایک انٹرویو میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران مذاکرات کی میز پر نہیں آیا تو امریکا اس کے تمام پل تباہ کر دے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :