وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے سپریم کورٹ اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا۔

خط میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں انتخابی ماحول سے متعلق تشویشناک اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

خط میں مزید کہا گیا کہ گلگت سے ایک سیاسی جماعت کی انتخابی سرگرمیوں، جلسوں اور قیادت کی نقل و حرکت پر غیر ضروری پابندیوں کی اطلاعات ہیں۔

خط میں یہ بھی کہا گیا کہ ہمیں گلگت میں سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کی ہراسانی، گرفتاریوں اور قانونی سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹ پر شدید تشویش ہے، ایسی صورتحال انتخابی عمل کی شفافیت اور ساکھ کو متاثر کر سکتی ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے خط میں کہا گیا کہ آئین پاکستان ہر سیاسی جماعت اور شہری کو آزاد، منصفانہ اور غیر جانبدار انتخابات میں شرکت کا حق دیتا ہے۔

خط میں مزید کہا گیا کہ عدالت سے آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کرنے کی استدعا کرتے ہیں۔

سہیل آفریدی کے خط میں کہا گیا کہ سیاسی کارکنوں اور قیادت کے خلاف غیر قانونی ہراسانی اور گرفتاریوں کو روکا جائے، تمام سیاسی جماعتوں کو بلا رکاوٹ انتخابی مہم اور سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے، انتخابی عمل کے دوران آئینی اور جمہوری حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی کہا گیا کہ

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات