ملالہ یوسفزئی پاکستان پہنچ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2025 GMT
نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی پاکستان پہنچ گئیں۔
پارلیمانی سیکریٹری تعلیم نے ملالہ یوسف زئی کا استقبال کیا۔
ملالہ یوسف زئی پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق کانفرنس میں شرکت کریں گی۔
کانفرنس میں ملالہ یوسف زئی خواتین کی تعلیم سے متعلق چینلنجز کے حل کے حوالے سے بات کریں گی۔
کرغزستان کی وزیرِ تعلیم کی بھی آمد
دوسری جانب کرغزستان کی وزیرِ تعلیم بھی 2 روزہ کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچ گئیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیرِ تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اسلام آباد میں تعلیمی کانفرنس منعقد کرنے سے متعلق بتاتے ہوئے کہا تھا کہ چاروں وزرائے اعلیٰ و صوبائی وزرائے تعلیم بھی تعلیمی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب خواتین کی تعلیم کا مقصد ایک بہتر گھر، ایک بہتر نسل اور ایک بہتر مستقبل ہے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے یہ بھی بتایا کہ انٹرنیشنل کانفرنس برائے مسلم خواتین، چیلینجز اور مواقع کے نام سے یہ کانفرنس ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ملالہ یوسف زئی کانفرنس میں
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔