اسلام آباد ہائیکورٹ کے نامزد ججز، پاکستان تحریک انصاف اور وکلا برادری کیا سوچ رہی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ میں 4 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کے لیے اس وقت 20 نام زیرِ غور ہیں۔ اس سلسلے میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس 17 جنوری کو ہوگا جس میں نامزدگیوں کا جائزہ لے کر کثرتِ رائے کی بنیاد پر ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
اِن 20 ناموں میں ضلعی عدلیہ سے کچھ نام ایسے بھی ہیں جنہوں نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف فیصلے دے رکھے ہیں یا اُن کے مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں۔ اور ممکنہ طور پر ہائیکورٹ کے جج بن جانے کے بعد یہی جج صاحبان اُن اپیلوں پر سماعت بھی کر سکتے ہیں تو کیا پاکستان تحریک انصاف کو ایسی نامزدگیوں پر تحفظات ہیں؟
بیرسٹر گوہر علی خانضلعی عدلیہ سے ایسے جج صاحبان کی نامزدگیوں کے بارے میں جب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان جو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے رُکن بھی ہیں اُن سے سوال پوچھا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں اُن کی جماعت لائحہ عمل بنائے گی اور ہدایات جاری کرے گی کہ کس نامزدگی کو ووٹ دیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں اُن کی جماعت نے بھی نامزدگیاں کر رکھی ہیں۔ وہ جوڈیشل کمیشن اجلاس میں اپنے نامزد کردہ جج صاحبان ہی کی حمایت کریں گے اور اُنہی کو ووٹ دیں گے۔
مزید پڑھیں:سوشل میڈیا کی جھوٹی مہم کا پردہ چاک، پشتون کمیونٹی کا اسلام آباد پولیس پر اعتماد کا اظہار
سینیٹر بیرسٹر علی ظفرپاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اور معروف قانون دان بیرسٹر علی ظفر جو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے ممبر بھی ہیں اُنہوں نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ ایسے جج صاحبان کو فیور دی جائے۔ لیکن آپ سنیارٹی کے اُصول کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ آپ کیسے ضلعی عدلیہ سے سینیئر موسٹ کے بجائے جونیئر جج صاحبان کو ہائیکورٹ کا جج بنائیں گے کیونکہ اُصول کے مطابق سینیئر موسٹ ہی کو لایا جانا چاہیے اور ہم نے اسلام آباد کی ضلعی عدلیہ میں سب سے سینیئر موسٹ کو نامزد کر رکھا ہے۔ اگر ایسے جج صاحبان کو جن پر پی ٹی آئی کو تحفظات ہیں اُن کو ہائیکورٹ جج بنایا جاتا ہے تو کیا اُس سے عمران خان یا پی ٹی آئی مقدمات پر فرق پڑے گا؟
اس سوال کے جواب میں بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مقدمات پر تو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن اس سے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی ساکھ پر ضرور اثر پڑے گا اور اگر 17 جنوری کو جوڈیشل کمیشن اجلاس میں ایسی کوشش کی گئی تو میں ضرور اُس ایشو پر آواز اُٹھاؤں گا اور پھر اجلاس کے بعد میڈیا میں بھی اِس کو ہائی لائٹ کیا جائے گا۔
ریاست علی آزاداسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے موجود صدر ریاست علی آزاد نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے تو ہم یہ چاہتے ہیں کہ 26ویں آئینی ترمیم ختم ہو اور اِس ترمیم کے تحت جو ججوں کی تعیناتیوں کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے وہ طریقہ کار ختم کیا جائے اور میرٹ کی بنیادوں پر ججوں کی تعیناتیاں عمل میں لائی جائیں۔
اُنہوں نے سوال اُٹھایا کہ ایسے جج صاحبان جنہوں نے ایک سیاسی جماعت کے خلاف فیصلے دیے اور ریوارڈ کے طور پر اُن کو ہائیکورٹ جج تعیناتی کے لیے نامزد کیا گیا ہے، تو کیا وہ میرٹ اور قانون کے مطابق فیصلے کر پائیں گے؟
مزید پڑھیں: قاتل کو سزائے موت کیوں نہیں سنائی گئی؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کا ماتحت عدالت سے استفسار
اُنہوں نے مزید کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی تعیناتی اسلام آباد بار کونسل سے کے جائے اور باہر سے تعیناتیاں نہیں ہونی چاہیں۔ اور میں چیف جسٹس صاحب سے گزارش کروں گا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیف جسٹس بھی اسلام آباد سے ہی ہونا چاہیے اور اگر کوئی باہر سے آئے گا تو ہم اُس کی مخالفت بھی کریں گے اور اُس کے خلاف احتجاج بھی کریں گے۔
ججز تعیناتی کا طریقہ کار کیا ہے؟ججز تعیناتی ترمیمی قواعد کے مطابق جوڈیشل کمیشن اراکین ہائیکورٹ ججز تعیناتی کے لیے نام تجویز کرکے متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو بھجواتے ہیں جبکہ چیف جسٹس خود سے بھی نام تجویز کر سکتا ہے، اور اس کے بعد امیدواران کی حتمی فہرست جوڈیشل کمیشن کو بھجوائی جاتی ہے۔ جہاں کثرت رائے سے تعیناتی کی منظوری دی جاتی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز کے لیے، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاور کا نام جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے نامزد رُکن روشن خورشید بروچہ جبکہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہ رُخ ارجمند کا نام اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے تجویز کیا۔ یہ دونوں نام بانی پی ٹی آئی کے مقدمات سے جُڑے ہیں۔
عمران خان کو سزا سنانے والے ڈسٹرکٹ جج جو اسلام آباد ہائیکورٹ میں بطور ایڈیشنل جج تعیناتی کے اُمیدوار ہیں۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاور نے 5 اگست 2023 کو پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کو توشہ خان ون کیس میں 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جُرمانے کی سزا سنائی تو اُن کے خلاف سوشل میڈیا پر شدید ترین کمپین کی گئی جس میں جعلی ویڈیوز بھی شامل تھیں۔ اور پھر ستمبر 2024 میں اُن کے آبائی علاقے بنوں میں خیبر پختونخوا حکومت کے اینٹی کرپشن ادارے کی جانب سے ایک مقدمے کا اندراج بھی کیا گیا جس میں جج ہمایوں دلاور کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے۔
مزید پڑھیں: ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا پاسپورٹ واپس دلوایا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہ رُخ ارجمند اس وقت بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق مختلف مقدمات اور اپیلوں پر سماعت کر چکے ہیں یکم اکتوبر 2024 کو انہوں نے توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کی تھیں۔ اس سے قبل اُنہوں نے عمران خان کے خلاف عدت کیس کی اپیل سننے سے معذرت کی تھی۔
ڈسٹرکٹ سیشن جج محمد اعظم خان نے جولائی 2023 میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے درمیان عدت کیس کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے اِسے سول جج کو سماعت کے لیے بھجوایا تھا۔ اس سے قبل سول جج نے مئی 2023 میں مذکورہ مقدمے کو ناقابلِ سماعت قرار دیا تھا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کے لئے کون اُمیدوار ہیں؟جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی فہرست کے مطابق نامزد اُمیدواروں میں 5 جوڈیشل افسران، 14 وکلاء، ایک لاء آفیسر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور ایک خاتون بھی شامل ہیں جو اسلام آباد ہائی کورٹ میں بطور جج تعیناتی کے اُمیدوار ہیں۔
جوڈیشل افسران میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاور، ڈسٹرکٹ سیشن جج اسلام آباد راجا جواد عباس حسن، چیئرمین آئی ٹی این ای شاہد محمود کھوکھر، ڈسٹرکٹ سیشن جج محمد اعظم خان اور ڈسٹرکٹ سیشن جج شاہ رُخ ارجمند شامل ہیں۔ جبکہ وکلا نامزد امیدواروں میں عدنان بشارت ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، سید قمر حسین شاہ سبزواری ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، عمر اسلم خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، انعام امین منہاس ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، محمد عثمان غنی راشد چیمہ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، عدنان حیدر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، مِس ندرت بیان ایڈووکیٹ، سلطان مظہر شیر خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، کاشف علی ملک ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، دانیال اعجاز ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، بابر بلال ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، محمد عبدالرافع ایڈووکیٹ، چوہدری حفیظ اللہ یعقوب کے ناموں کے ساتھ ساتھ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت کا نام بھی شامل ہے۔
مزید پڑھیں: توشہ خانہ کیس سننے والے 2 ججز کے نام اسلام آباد ہائیکورٹ میں تعیناتی کے لیے تجویز
جوڈیشل کمیشن میں کون کون شامل ہوگا؟جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے ججز تعیناتی رولز کی منظوری کے فوراً بعد ملک بھر کی پانچوں ہائیکورٹس میں ججز تعیناتیوں کے لیے جوڈیشل کمیشن اراکین سے نامزدگیوں کی فہرست مانگی تھی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن کی سربراہی چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کریں گے جبکہ اُن کے ساتھ دیگر اراکین میں جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق، سینیئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اختر حسین، ممبر اسلام آباد بار کونسل ذوالفقار علی عباسی، اسپیکر قومی اسمبلی کی نامزد رکن روشن خورشید بروچہ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وفاقی وزیر رانا تنویر حسین، سینیٹر فاروق ایچ نائیک، سینیٹر سید علی ظفر، مسلم لیگ ن کے رُکنِ قومی اسمبلی شیخ آفتاب احمد اور پاکستان تحریک انصاف کے رُکن قومی اسمبلی بیرسٹر گوہر علی خان شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد ہائیکورٹ بیرسٹر گوہر علی خان پاکستان تحریک انصاف جج ہمایوں دلاور ریاست علی آزاد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ بیرسٹر گوہر علی خان پاکستان تحریک انصاف ریاست علی ا زاد اسلام ا باد ہائیکورٹ میں ایڈووکیٹ سپریم کورٹ پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان ڈسٹرکٹ سیشن جج ججز کی تعیناتی تعیناتی کے لیے ایسے جج صاحبان ایڈیشنل ججز قومی اسمبلی ہائیکورٹ کے ہائیکورٹ کا ججز تعیناتی ایڈیشنل جج مزید پڑھیں ضلعی عدلیہ پی ٹی ا ئی ا نہوں نے چیف جسٹس کے مطابق کورٹ میں کے خلاف علی ظفر کریں گے کہا کہ
پڑھیں:
امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی
بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔
بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔
اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔
وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔
امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔
فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔
سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔
ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔
بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔
4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)