اچکزئی نے آئین کی بالادستی کیلئے مل کر چلنے کی دعوت دی ہے، ہماری جماعت مشاورت کریگی ،شاہد خاقان عباسی
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT
اسلام آباد : عوام پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی نے آئین کی بالادستی کیلئے مل کر چلنے کی دعوت دی ہے۔
زرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنمائوں اور محمود خان اچکزئی نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی جس میں مختلف امورپر تبادلہ خیال کیا گیا ۔
بعد ازاں عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے تحریک تحفظ آئین کے قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ محمود اچکزئی نے اسد قیصر، عمر ایوب، ناصر عباس، سلمان اکرم راجا کے ہمراہ مجھے عزت دی۔
انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی نے آئین کی بالادستی کے لیے مل کر چلنے کی دعوت دی ہے، ہماری جماعت اس پر مشاورت کرے گی۔
عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ نے مزید کہا کہ یقین ہے کہ مولانافضل الرحمان اور دیگر جماعتیں اس میں شامل ہوں گی۔
پوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اچھی خبر یہ ہے کہ شاہد خاقان عباسی آئین کی بالادستی کیلئے ساتھ چلنے کو تیار ہیں۔
انہوںنے کہاکہ ہمیں بہت بری خبر ملی تھی کہ عمران خان کو 14 سال قید کی سزا ملی۔انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین کی بالادستی کے لیے ہم نے ایک انڈراسٹینڈنگ بنا لی ہے اچھی خبر ملی شاہد خاقان عباسی آئین کی بالادستی کیلییساتھ چلنے کو تیار ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ محمود خان اچکزئی نے آئین کی بالادستی کے لیے مل کر چلنے کی دعوت دی ہے، ہماری جماعت اس پر مشاورت کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی نے شاہد خاقان عباسی نے کے سربراہ نے کہا کہ کہ محمود
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔