ویب ڈیسک — امریکہ کے وزیرِِ خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا ہے کہ اگر افغان طالبان کی تحویل میں مزید امریکی شہری ہوئے تو امریکہ ان کی اعلیٰ قیادت کے سر وں کی قیمت مقرر کرے گا۔

ہفتے کو وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے سوشل پر ایک بیان میں کہا کہ ’’ سننے میں آیا ہےکہ طالبان کے پاس مزید امریکی یرغمال ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’اگر یہ سچ ہے تو ہم فوری طور پر ان کے رہنماؤں پر بڑے انعام کا اعلان کریں گے جو ممکنہ طور پر اس سے بھی زیادہ ہوگا جس کا اعلان ہم نے بن لادن کے لیے کیا تھا۔‘‘


یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب کچھ روز قبل افغان طالبان حکومت اور امریکہ کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔

یہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور کے اختتام پر کیے گئے اقدامات میں سے ایک تھا۔

روبیو نے یہ نہیں بتایا کہ دیگر امریکی کون ہیں تاہم اس بارے میں طویل عرصے سے رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں کہ ماضی کی امریکی حکومتیں کئی ناحق زیرِ حراست امریکیوں کا معاملہ باضابطہ طور پر نہیں اٹھاسکی ہیں۔

بائیڈن حکومت سے ہونے والے معاہدے میں طالبان نے افغانستان میں قید ریان کوربٹ کو رہا کیا تھا۔ ان کا کیس افغانستان میں قید امریکیوں کا ایک معروف معاملہ تھا۔ کوربٹ افغانستان میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ مقیم تھے اور اگست 2022 میں انہیں قید کرلیا گیا تھا۔

رہا ہونے والوں میں ایک اور امریکی ولیم مکینٹی بھی شامل تھے جن کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

امریکہ نے اس کے بدلے میں افغانستان کے شہری خان محمد کو رہا کیا ہے جو کیلی فورنیا کی ایک جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔

خان محمد کو امریکہ میں ہیروئن اور افیون اسمگل کرنے اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے لیے راکٹ حاصل کرنے کے مقدمات میں سزا ہوئی تھی۔

دنیا کے کسی ملک نے افغانستان میں قائم ہونے والی طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے جس نے مذہب کی اپنی سخت گیر تعبیرات کے تحت خواتین اور لڑکیوں پر کڑی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت کے چیف پراسیکیوٹر نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ خواتین کے ساتھ روا جبری سلوک کی بنا پر سینئر طالبان قیادت کے وارنٹ گرفتاری حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

اس خبر کی تفصیلات اے ایف پی سے لی گئی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل افغانستان میں

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • افغانستان میں طالبان رجیم کیخلاف مزاحمت مزید زور پکڑنے لگی، مخالف گروپوں کے حملوں میں تیز ی آگئی
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران