WE News:
2026-07-24@09:10:17 GMT

ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ کیا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT

ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ کیا ہے؟

قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ کی منظوری دے دی ہے۔

ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ اکثریتی حمایت کے ساتھ سینیٹ سے منظور تو ہو چکا ہے، لیکن اپوزیشن اراکین کی جانب سے اس ایکٹ کی سخت مخالفت کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی نے ڈیجیٹل نیشنل پاکستان بل 2025 کی منظوری دیدی

واضح رہے کہ سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن اراکین کی جانب سے ہنگامہ آرائی اور شور شرابہ کیا گیا، حزب اختلاف کے اراکین کا مطالبہ تھا کہ انہیں ایکٹ پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔

ڈیجیٹل نیشن ایکٹ آخر ہے کیا؟ اور اس پر کیوں اعتراضات اٹھائے جارہے ہیں؟

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے فری لانس ایسوسی ایشن کے صدر طفیل احمد خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ’ڈیجیٹل نیشن ایکٹ‘ ایک اہم قانون ہے جس کا مقصد پاکستان کی معیشت اور حکومتی اداروں کو ڈیجیٹل طریقے سے مضبوط اور جدید بنانا ہے۔ یہ ایکٹ ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے، انٹرنیٹ کی سہولتوں کو بہتر بنانے اور ڈیجیٹل معیشت کو فعال کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس ایکٹ کے تحت پاکستان میں ڈیجیٹل خدمات، آن لائن کاروبار اور ای گورننس کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اس کا مقصد ملک میں ٹیکنالوجی کی ترقی کو تیز کرنا، سوشل میڈیا کو منظم کرنا اور آن لائن سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔

’اس بل کی تفصیلات میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنا، ڈیٹا پروٹیکشن کے قوانین وضع کرنا اور نئی ٹیکنالوجیز کو استعمال کرنے کی سہولت فراہم کرنا شامل ہیں۔ اس کا اہم مقصد حکومت، کاروباری اداروں اور عوام کو ڈیجیٹل دنیا کے ساتھ جوڑنا ہے۔‘

ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ پر اعتراضات کیوں اٹھائے جارہے ہیں؟

ڈیجیٹل رائٹس ایکسپرٹ ڈاکٹر ہارون بلوچ نے ’وی نیوز‘ کو بتایا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ کے تحت حکومت نے ڈیجیٹل شناخت آئی ڈی متعارف کروائی ہے، جس میں عوام کا سارا ڈیٹا ایک ہی آئی ڈی کے اندر ہوگا۔ ’جس میں ہیلتھ، ایجوکیشن، نادرا اور ایک شخص کا ہر قسم کا ڈیٹا ایک ہی آئی ڈی کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ اگر وہ آئی ڈی کسی کے پاس ہوگی تو ہی وہ گورنمنٹ کی سہولیات حاصل کر سکےگا۔‘

انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان میں بے شمار ایسے لوگ ہیں جن کے لیے شناختی کارڈ بنوانا ہی ایک بہت مشکل عمل ہے، ان کے لیے یہ آئی ڈی بنوانا کتنا مشکل ہوگا۔ لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جب ایک جگہ پر سارا ڈیٹا اکٹھا کردیا گیا ہے جس سے رائٹ ٹو پرائیویسی متاثر ہوگی۔ کیونکہ ادارے جو ڈیٹا ایک جگہ پر اکٹھا کریں گے اس ڈیٹا کو کیسے محفوظ بنایا جائے گا۔ ڈیٹا پرائیویسی کو کسے یقینی بنایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں سرکاری ادارے ڈیجیٹلائزیشن کی جانب کیوں نہیں بڑھنا چاہتے؟

انہوں نے کہاکہ اس سے بھی پہلے بات یہ ہے کہ ڈیٹا کی سینٹرلائیزیشن ہیومن رائٹس اصولوں کے منافی ہے، اس سے لوگوں کی پرائیویسی متاثر ہوگی۔

’اگر کل کو حکومت کے پاس سے لوگوں کا ڈیٹا چوری ہوتا ہے یا غلط استعمال ہوتا ہے تو وہ کہاں جا کر انصاف طلب کریں گے، اور اس حوالے سے پاکستان میں کوئی قانون بھی نہیں ہے۔‘

’ڈیجیٹل شناخت سے ہر فرد کی ہر سرگرمی کی نگرانی کی جا سکتی ہے‘

دوسری جانب وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ اس ایکٹ کے ذریعے پاکستان کی تقدیر بدلے گی اور اس سے عوام کی زندگی آسان، معیشت مضبوط، اور گورننس میں شفافیت اور کارکردگی میں نمایاں بہتری آئےگی۔

انہوں نے کہاکہ اس بل کے تحت Pakistan Stack تشکیل دیا جائے گا، جس کے ذریعے Data Exchange Layers قائم ہوں گی۔ ان کے ذریعے شہریوں کے روزمرہ کے تمام کام اور دستاویزات بآسانی دستیاب ہوں گی، جبکہ حکومت کے لیے گڈ گورننس اور ڈیجیٹلائزیشن ممکن ہوگی اور کاروبار کے لیے Ease of Doing Business بہتر ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں اگر رشوت کو ختم کرنا اور نظام میں شفافیت لانی ہے تو اداروں کو ڈیجیٹل ہونا ہوگا، شزہ فاطمہ

مزید برآں اس بل کے تحت AgriTech، FinTech، EdTech، اور HealthTech کے لیے ضروری ڈیٹا فراہم کیا جائےگا، جو پاکستان کی معیشت کو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط اور جدید خطوط پر استوار کرے گا۔ یہ اقدامات پاکستان کو ایک ترقی یافتہ اور ڈیجیٹل قوم کے طور پر دنیا کے ساتھ ہم آہنگ کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آئی ڈی اپوزیشن حکومت ڈیجیٹل نیشنل پاکستان ایکٹ ڈیجیٹلائزیشن سینیٹ شزا فاطمہ خواجہ قومی اسمبلی وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ئی ڈی اپوزیشن حکومت ڈیجیٹل نیشنل پاکستان ایکٹ ڈیجیٹلائزیشن سینیٹ شزا فاطمہ خواجہ قومی اسمبلی وی نیوز انہوں نے کے ساتھ آئی ڈی کے تحت کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو