کراچی کی ترقی کا سفر بلاول بھٹو کے تیر کے نشان کے تحت شروع ہوا ہے، مرتضیٰ وہاب
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2025 GMT
میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کا سندھ حکومت کے ساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں، عدالت کے فیصلے کے تحت اس کی رقم سپریم کورٹ کو ادا کی جارہی ہے، غیر قانونی تعمیرات اور چائنا کٹنگ کی سرپرستی کبھی نہیں کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کراچی میں دو قیادتیں چل رہی ہیں، ایک صرف باتیں اور پریس کانفرنس کرتی ہے اور دوسری ہماری قیادت ہے جو کام کرکے وعدوں کو وفا کرتی ہے، کراچی کی ترقی کا سفر بلاول بھٹو کے تیر کے نشان کے تحت شروع ہوا ہے، ہمارا وعدہ ہماری نیت، پیپلز پارٹی کی پوری قیادت عوام کے سامنے ہے، ہمارا منشور تھا عوام کی خدمت کریں گے، کراچی بشمول لیاری کے احساس محرومی کو جلد ختم کریں گے، کے ایم سی نے تمام اداروں کو روڈ کٹنگ کے حوالے سے خط لکھ دیا ہے تاکہ فنڈز کا صحیح استعمال یقینی بنایاجاسکے، بحریہ ٹاؤن کا سندھ حکومت کے ساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں، عدالت کے فیصلے کے تحت اس کی رقم سپریم کورٹ کو ادا کی جارہی ہے، غیر قانونی تعمیرات اور چائنا کٹنگ کی سرپرستی کبھی نہیں کریں گے، لیاری پیپلز پارٹی کی آن اور شان ہے۔ یہ بات انہوں نے لیاری کے علاقے سنگھولین میں بکرا پیڑی پمپنگ اسٹیشن کی تعمیر نو اور اپ گریڈیشن کاافتتاح کرنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ عوام کا سیوریج کا دیرینہ مسئلہ پیپلز پارٹی نے حل کیا ہے، بکرا پیڑی کے پمپنگ اسٹیشن پر نئی مشینری لائے ہیں، لیاری کے عوام سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کے تھری کی لائن ڈالنے کا وعدہ کیا تھا، اب اس ایلیویٹڈ لائن کے انفراسٹرکچر کو ڈالنے کا کام شروع ہوچکا ہے، کے تھری کی لائن کے حوالے سے بلاول بھٹو نے جو وعدہ کیا تھا اس کو جلد مکمل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ روڈکٹنگ کی مد میں لیاری ٹاؤن کے پاس سوا ارب آئے ہیں، اس فنڈ کو جلد یہاں پر سڑکوں کی تعمیر پر لگایا جائے گا، لیاری کے پانی کی چوری کو روکیں گے، کراچی میں اضافی پانی کی فراہمی کے لئے حب ڈیم سے نئی کنال ڈالنے کا کام بھی چل رہا ہے، اگست تک شہر میں مزید 40 ملین گیلن یومیہ پانی لایا جاسکے گا جس سے لیاری سمیت کراچی کے کئی اضلاع میں پانی کی کمی کا مسئلہ حل ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی بلاول بھٹو لیاری کے کریں گے نے کہا کے تحت
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔