Nai Baat:
2026-07-24@16:10:27 GMT

وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومتی کارکردگی!

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT

وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومتی کارکردگی!

پی ٹی آئی کے آئے روز کے احتجاج، دھرنوں، سیاسی عدم استحکام اور عالمی اقتصادی صورت حال نے پاکستان کی ترقی کی رفتار اور معیشت کو جس بُری طرح متاثر کیا ہے۔ ان مشکل ترین سیاسی و معاشی حالات میں وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی حکومت کا قیام اور اس کی اب تک کی کارکردگی کا جائزہ لینا ایک ایسا موضوع ہے جو نہ صرف پاکستانی عوام اور تجزیہ نگاروں بلکہ بین الاقوامی مبصرین کی توجہ کا بھی مرکز بنا ہوا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کا منصب سنبھالنے سے پہلے میاں صاحب جس طرح پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنی انتظامی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔ اس تناظر میں یقینا عوامی توقعات کا ایک بہت بڑا پہاڑ اُن کے کندھوں پر ہے جنہیں پورا کرنے کے لیے وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ مگر پاکستان عوامی سطح پر اقتصادی بحران، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، بجٹ خسارہ اور مہنگائی سمیت قومی سلامتی کے جس قسم کے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے اور ان سے نمٹنے کے لیے معیشت، توانائی، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں جن اصلاحات اور اقدامات کی ضرورت تھی وہ انتہائی مشکل ہیں۔ ان میں سے ایک اہم قدم بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے ساتھ اُس کی کڑی شرائط پر کیا گیا معاہدہ ہے جس کے تحت پاکستان کو مالیاتی مدد فراہم کی گئی۔ اس معاہدے کے تحت حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانے، ٹیکس نظام میں اصلاحات لانے اور سرکاری اخراجات کو کم کرنے کے کئی اہم اقدامات اٹھائے ہیں جس میں ٹیکس وصولی میں اضافے کے لیے کوششیں تیز کرنے کے ساتھ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے تحت ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ غیر جانبدار ماہرین معیشت کے مطابق جس کے ملکی معیشت پر ابھی سے مثبت اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، حکومت نے ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے جو مراعات دی ہیں اُن سے بھی معیشت میں تنوع پیدا ہونے اور روزگار کے مواقع بڑھنے کے خاصے امکانات ہیں۔ حکومت نے مہنگائی کو کم کرنے اور زرعی پیداوار کو بڑھانے کے لیے جو اقدامات کیے ہیں اس میں کسانوں کو سبسڈی کے ساتھ بہتر بیج کی فراہمی شامل ہیں۔ حکومت نے ٹیکنالوجی میں بہتری کے لیے مختلف پروگرامز شروع کیے ہیں جن میں ڈیجیٹلائزیشن اور ہنر مند انسانی وسائل کی تربیت شامل ہے تاکہ معیشت میں ترقی کو بڑھایا جا سکے۔ اس کے ساتھ سوشل سیکٹر میں بھی بہتر خدمات فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شہباز شریف کی حکومت نے تعلیم اور صحت کے شعبوں کو اولین ترجیح دی ہے اور تعلیم کے شعبے میں سکولوں اور کالجوں کو جدید سہولیات سے لیس کرنے اور تعلیمی نصاب کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانے اور تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں اور نئی تعلیمی پالیسی کے تحت معیار تعلیم میں بہتری لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ صحت کے شعبے میں بہتر خدمات کی فراہمی کے لیے ہسپتالوں کی حالت بہتر بنانے انہیں جدید آلات اور ادویات سے لیس کرنے اور صحت کی سہولیات کی تقسیم کو بہتر بنانے کے کئی منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے عوامی صحت کے پروگراموں کو بھی فروغ دیا ہے جن میں ویکسینیشن مہمات، صحت کی تعلیم اور بیماریوں کے خلاف آگاہی مہمات شامل ہیں۔ حکومت نے عورتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین کو مضبوط بنایا ہے اور کوٹہ سسٹم کے تحت مختلف شعبوں میں خواتین کی نمائندگی کو بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ توانائی کا بحران پاکستان کے لیے ایک طویل عرصے سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ موجودہ حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کئی اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔ شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کے تحت توانائی کے جن منصوبوں کو تیز کیا ہے ان میں شمسی توانائی، ہوا، کوئلہ اور پن بجلی سے چلنے والے متعدد منصوبوں پر ’’شہباز سپیڈ‘‘ سے کام جاری ہے۔ جن میں اب تک کئی منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں جن سے ملک میں بجلی کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور آئندہ کچھ عرصے میں مزید بہتری کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے کسی مصلحت یا دبائو کو خاطر میں لائے بغیر بجلی کی چوری کے خلاف جس قسم کے سخت اقدامات اٹھائے ہیں اس سے بجلی کے نظام کی کارکردگی میں خاصی بہتری آئی ہے۔ اس وقت حکومت خاص طور پر انفراسٹرکچر کی ترقی کو بھی ترجیح دے رہی ہے جس میں حکومت نے سڑکوں، پلوں اور عوامی عمارتوں کی تعمیر اور مرمت کے لیے کئی نئے منصوبے شروع کیے ہیں۔ سی پیک کے تحت انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں موٹر ویز، ریلوے لائنیں اور بندرگاہوں کی ترقی بھی شامل ہے۔ انفراسٹرکچر کی ترقی سے نہ صرف ملک میں تجارت اور صنعت کو فروغ ملنا شروع ہوا ہے بلکہ اس سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ وفاقی حکومت نے خارجہ پالیسی کے میدان میں بین الاقوامی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے جو کوششیں کی ہیں اس میں خاص طور پر چین، سعودی عرب اور دیگر اہم ممالک کے ساتھ تعلقات کو از سر نو مضبوط اور مستحکم کیا ہے۔ اس سے پاکستان کو جو اقتصادی اور دفاعی فوائد حاصل ہوئے ہیں وہ خاصے حوصلہ افزا ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے بھی شہباز شریف کی قیادت میں افغانستان میں امن کے عمل میں بھی بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ حکومت کے قیام سے اب تک کے عرصے میں دیکھا جائے تو وفاقی حکومت کی کارکردگی کو کئی ایک چیلنجز کا سامنا بھی رہا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور کرپشن جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔ حکومت پر تنقید کی جاتی ہے کہ وہ ان مسائل کو حل کرنے میں بہت تیز رفتاری سے کام نہیں کر رہی۔ اس کے علاوہ سیاسی مخالفین حکومت پر یہ الزام بھی لگاتے ہیںکہ وہ جمہوری اقدار کو کمزور کر رہی ہے۔ شہباز شریف کی حکومت کو سب سے بڑا یہ چیلنج درپیش ہے کہ وہ سیاسی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے عوامی مسائل کو حل کرے۔ وفاقی حکومت نے ملک کو درپیش کئی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اب تک کئی اہم اور کامیاب اقدامات اٹھائے ہیں۔ شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی حکومت کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ان کی کوششیں ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بہت اہم اور کار آمد ہیں۔ اس بات کی قوی امید ہے کہ مستقبل میں عوام کی حمایت، سیاسی استحکام اور بہتر حکمرانی کے تحت شہباز شریف کی حکومت پاکستان کی معیشت کو ایک نئی سمت اور بلندی فراہم کر سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nai Baat

کلیدی لفظ: شہباز شریف کی قیادت میں اقدامات اٹھائے ہیں وفاقی حکومت کی کارکردگی اس کے علاوہ بہتر بنانے میں حکومت کرنے اور حکومت نے کی ترقی کے ساتھ ہے اور رہی ہے کے تحت کے لیے رہا ہے کیا ہے

پڑھیں:

 بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف

ویب ڈیسک :وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، بلوچستا ن میں بسنے والے بلوچوں اور پشتونوں نے قیام پاکستان میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جبکہ اسلام آباد چاروں صوبوں کا مشترکہ مسکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بسنے والے بلوچوں اور پشتونوں نے قیامِ پاکستان میں کلیدی کردار ادا کیا، وزیراعظم کے مطابق قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت پنجاب نے بلوچستان کے لیے 150 ارب روپے کا حصہ دیا، جبکہ دیگر تین صوبوں نے بھی بلوچستان کے مفاد میں اپنا حصہ ڈالا، یہ کسی پر احسان نہیں بلکہ قومی بھائی چارے اور یکجہتی کی مثال ہے۔

اوپن مارکیٹ میں مہنگائی برقرار، آٹا، گھی اور دالیں مہنگی

شہباز شریف نے بتایا کہ کراچی سے چمن تک دو رویہ شاہراہ کی تعمیر جاری ہے اور بلوچستان کے 27 ہزار ٹیوب ویلز کو سولر توانائی پر منتقل کیا جا چکا ہے تاکہ صوبے میں زرعی اور توانائی کے شعبوں کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔ 

 وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے عوام کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور اس جنگ میں 90 ہزار پاکستانی شہید ہوئے۔

پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کے لیے نئی گائیڈ لائنز جاری

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت کا سرکاری ترجمانوں سے متعلق قانون سازی کا فیصلہ
  • ادویات مہنگی ہونے کا خدشہ، قیمتوں سے متعلق اہم فیصلوں کے لیے حکومتی مشاورت جاری
  • پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثر کو بہتر بناسکتی ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثرکو بہتر بناسکتی ہے: وزیراعلیٰ سندھ
  • بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری