لاہور، امامیہ سکاوٹس کی جانب سے ’’یوم وفا‘‘ کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT
علامہ آغا سید مہدی کاظمی کا سکاوٹس سے خطاب میں کہنا تھا کہ حضرت غازی عباس علمدار علیہ السلام نے میدان کربلا میں وفا کی وہ تاریخ رقم کی جس کی رہتی دنیا تک کوئی مثال نہیں ملنی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عباسؑ کی اسی وفا کو پیش نظر رکھتے ہوئے امامیہ سکاوٹس کی آئیڈیل شخصیت حضرت عباس علیہ السلام ہی ہیں۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
بانی آئی ایس او پاکستان شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی پر اسکاوٹس سلامی کا اہتمام
بانی آئی ایس او پاکستان شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی پر اسکاوٹس سلامی کا اہتمام
بانی آئی ایس او پاکستان شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی پر اسکاوٹس سلامی کا اہتمام
بانی آئی ایس او پاکستان شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی پر اسکاوٹس سلامی کا اہتمام
بانی آئی ایس او پاکستان شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی پر اسکاوٹس سلامی کا اہتمام
بانی آئی ایس او پاکستان شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی پر اسکاوٹس سلامی کا اہتمام
بانی آئی ایس او پاکستان شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی پر اسکاوٹس سلامی کا اہتمام
بانی آئی ایس او پاکستان شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی پر اسکاوٹس سلامی کا اہتمام
بانی آئی ایس او پاکستان شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی پر اسکاوٹس سلامی کا اہتمام
بانی آئی ایس او پاکستان شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی پر اسکاوٹس سلامی کا اہتمام
بانی آئی ایس او پاکستان شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی پر اسکاوٹس سلامی کا اہتمام
بانی آئی ایس او پاکستان شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی پر اسکاوٹس سلامی کا اہتمام
بانی آئی ایس او پاکستان شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی پر اسکاوٹس سلامی کا اہتمام
بانی آئی ایس او پاکستان شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی پر اسکاوٹس سلامی کا اہتمام
بانی آئی ایس او پاکستان شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی پر اسکاوٹس سلامی کا اہتمام
بانی آئی ایس او پاکستان شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی پر اسکاوٹس سلامی کا اہتمام
اسلام ٹائمز۔ امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے ذیلی ادارہ ’’امامیہ سکاوٹس‘‘ کی جانب سے آج یوم ولادت باسعادت سرکارِ وفا حضرت عباس علمدار علیہ السلام کی مناسبت سے ملک بھر میں ’’یوم وفا‘‘ منایا جا رہا ہے۔ یوم وفا کے سلسلہ میں ملک بھر میں سکاوٹس سلامی اور دیگر تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ لاہور میں مرقد بانی آئی ایس او پاکستان شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی پر اسکاوٹس سلامی کا اہتمام کیا گیا، جس میں ضلع بھر سے امامیہ سکاوٹس نے شرکت کی۔ ممتاز عالم دین علامہ آغا سید مہدی کاظمی اور سابق مرکزی چیف اسکاوٹ علی زین نے تقریب کی صدارت کی۔ سکاوٹس نے شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی اور شہید محرم علی کے مرقد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔