جماعت اسلامی کے تحت ملک گیر یوم یکجہتی کشمیر۔جو کشمیر کا سودا کریگا پاکستانی قوم سے نشان عبرت بنادیگی،حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2025 GMT
لاہور: جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن یوم یکجہتی کشمیر ریلی کے شرکاء سے خطاب کررہے ہیں
لاہو ر (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ٹرمپ گرتی ہوئی اور شکست خوردہ صہیونیت کو سہارا دینے کی کوشش کر رہے ہیں ،منہ کی کھائیں گے ۔امریکی صدر کا غزہ پر قبضے کا اعلان اور اسے خالی کرانے کا بیان احمقانہ ہے ،پاکستان مذمت کرے۔حماس زمینی حقیقت ،تسلیم کیے بغیر دنیا کی سیاست آگے نہیں بڑھ سکتی۔کشمیر سہ فریقی مسئلہ، پاکستان کی تقدیر اور تکمیل کا معاملہ ہے، جو کشمیر کا سودا کرے گا پاکستانی قوم اسے نشان عبرت بنا دے گی، گزشتہ چند سال سے کشمیر کاز کو کھٹائی میں ڈالا گیا، یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر تحریک آزادی کشمیر کو از سر نو منظم کرنے کا اعلان کرتے ہیں، بھارت سے تجارت کی نہیں اسے دنیا میں تنہا کرنے کی ضرورت ہے، اسلام آباد معذرت خواہانہ رویہ اپنانے کے بجائے کشمیریوں کا مقدمہ پوری دنیا میں لڑے، آزاد کشمیر کو تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ بنایا جائے، کشمیر پر خاموشی ہندو سامراج اور گجرات کے قصاب کی حمایت کے مترادف ہے، اہل کشمیر کو یقین دلاتا ہوں کہ پوری پاکستانی قوم آپ کی پشت بان ہے، جماعت اسلامی کشمیر
کاز کو ملک کے کونے کونے میں اجاگر کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر جماعت اسلامی لاہور کی جانب سے مال روڑ لاہور پر نکالے جانے والے کشمیر مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف، امیر لاہور ضیاالدین انصاری ایڈووکیٹ ، انجینئراخلاق احمد،اظہر بلال ،خالد احمد بٹ ،چودھری محمد شوکت ،وقاص احمد بٹ،احسان بٹ ،عبد العزیز عابد،جبران بٹ اور دیگر ذمے داران بھی موجود تھے۔ خواتین، بچوں، بزرگوں سمیت مختلف طبقہ ہائے فکر کے افراد کی بڑی تعداد نے پاکستان، آزاد کشمیر اور جماعت اسلامی کے پرچم اٹھا کر مارچ میں شرکت کی۔ لوگوں نے کتبے اور بینرز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر تحریک آزادی کشمیر کے حق میں نعرے درج تھے۔ یوم یکجہتی کشمیر جو سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمدؒ کی تجویز پر قومی اور حکومتی سطح پر گزشتہ 3 دہائیوں سے منایا جاتا ہے کے موقع پر جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ملک گیر ریلیاں اور مارچز منعقد کیے گئے۔ اسلام آباد، راولپنڈی، کراچی، کوئٹہ، پشاور، فیصل آباد، ملتان، حیدرآباد، سکھر، بنوں، دیر اور دیگر سیکڑوں شہروں میں نکالی جانے والی ریلیوں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔امیر جماعت نے لاہور ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ٹرمپ کے غزہ پر قبضے کے بیان اور اسے خالی کرانے کے منصوبے کی مذمت اور اہل فلسطین کی حمایت کا اعادہ کرے۔ دنیا میں امریکا، اسرائیل اور بھارت 3 بڑے دہشت گرد ہیں، 60ہزا رفلسطینیوں کا خون پینے والا نیتن یاہو ٹرمپ کی گود میں بیٹھ گیا ہے، حماس کو دہشت گرد کہنے والا خود سب سے بڑا دہشت گرد ہے، غزہ کو خالی کرانے کے ناپاک منصوبے کو پوری دنیا نے مسترد کردیا ہے، امریکا اسرائیل کی نسل کشی کی حمایت کی وجہ سے دنیا میں تنہا ہورہا ہے، مودی بھارت کو تنہائی کی طرف لے جارہا ہے، امریکا اور کینیڈا میں علیحدگی پسندوں کے خلاف نئی دہلی کے ایکشن سے دونوں ممالک اس سے ناراض ہیں، بھارت میں ناگا لینڈ، ہماچل، آسام اور پنجاب میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں،بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ایک لاکھ لوگوں کو شہید کیا، وہاں 10 لاکھ قابض افواج موجود ہیں، انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں ہورہی ہیں، ان حالات میں پاکستانی حکومت کی ذمے داری ہے کہ کشمیری قیادت کو ساتھ ملا کر مسئلہ کشمیر پر پوری دنیا میں سفارت کاری کو تیز کیا جائے۔ بھارت سے آلو ،پیاز کی تجارت کا بیانیہ ایک سازش ہے، بھارت کشمیریوں کا قاتل ہے، ہم بھارتی عوام کے مخالف نہیں، کشمیریوں کو حق خود ارادیت ملنے تک بھارت سے کسی قسم کے تعلقات نہیں چاہتے، اسی طرح اگرکسی نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچا بھی تو قوم اسے گریبان سے پکڑے گی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی 17 قراردادیں ہیں، اقوام متحدہ تو خاموش ہے، بدقسمتی سے پاکستان میں حکومتی سطح پر بھی گزشتہ چندسال سے ماضی کی نسبت خاموشی چھائی ہوئی ہے، مشرقی سرحد کو بھلا کر تمام توجہ مغربی سرحد پر مرکوز ہے، پاکستان کو ایک ایجنڈے کے تحت افغانستان سے لڑایا جارہا ہے،بھارت سے تعلقات کی چہ میگوئیاں جاری ہیں، کہا جاتا ہے کہ جنرل (ر) باجوہ کے دور میں کشمیر پر سودے بازی ہوئی، ہونا یہ چاہیے تھا کہ جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تو پاکستانی فوج مقبوضہ وادی کی جانب پیش قدمی کرتی، اس سے پوری دنیا کی توجہ کشمیر پر آجاتی، بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا اور سودے بازی کی باتیں ہونے لگیں، اگر سودے بازی نہیں ہوئی تو حکومت اور فورسز کی ذمے داری ہے کہ اس پر وضاحت جاری کرے اور تحریک آزادی کشمیر کی حمایت کا اعادہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو کمزور معیشت کے بہانے بنا کر ڈرانے کی کوشش نہ کی جائے، پاکستان وسائل سے مالا مال ہے، معیشت کمزور ہے تو یہ کرپٹ حکمرانوں کی وجہ سے ہے، حکمران معیشت کا بہانہ بنا کر بزدلی نہ دکھائیں، اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت کشمیریوں کی تحریک مزاحمت قانونی اور اس کی حمایت بھی قانون کے عین مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اندر را کی کارروائیوں کی خبریں ہیں، عوام وضاحت چاہتے ہیں۔ امیر جماعت نے کہا کہ بھارت کو بنگلا دیش میں زبردست جھٹکا لگا، بنگلا دیش میں پاکستان سے تعلقات کی بحالی کی تحریک زور پکڑ چکی ہے، بھارت اور اس کے حمایتی رسوا ہوچکے ہیں، ضروت اس امر کی ہے کہ پاکستان پوری دنیا کے باضمیر لوگوں کو بھارت کے مظالم اور سازشوں سے آگاہ کرے اور انہیں تحریک آزادی کشمیر کی حمایت پر آمادہ کرے۔ انہوں نے اس موقع پر جماعت اسلامی لاہور کی کامیاب مارچ کے انعقاد پر تحسین کی اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کشمیری شہدا اور خصوصی طور پرسید علی گیلانیؒ شہید کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے آسیہ اندرابی اور بھارتی جیلوں میں بند دیگر حریت پسندوں کی غیر متزلزل قیادت کو بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مقبوضہ کشمیر جلد بھارتی تسلط سے آزاد ہوکر پاکستان کا حصہ بنے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تحریک ا زادی کشمیر یوم یکجہتی کشمیر حافظ نعیم الرحمن جماعت اسلامی پوری دنیا نے کہا کہ کشمیر کا دنیا میں کی حمایت انہوں نے بھارت سے اور اس
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔