Express News:
2026-06-03@00:43:19 GMT

اسرائیل غزہ کی پٹی جنگ کے بعد امریکا کے حوالے کرے گا، ٹرمپ

اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2025 GMT

واشنگٹن:

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی کو جنگ کے بعد امریکا کے حوالے کرے گا۔

ٹرمپ نے وضاحت دی کہ غزہ کی سرزمین پر امریکی فوجی اتارنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی کیونکہ لڑائی کے بعد اسرائیل علاقے کو فلسطینیوں سے خالی کرانے میں کامیاب ہو جائے گا۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے ٹرمپ کے منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ اس تجویز نے کچھ ریپبلکنز ارکان کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

ٹرمپ کے اس اعلان کی دنیا بھر میں مذمت کے ایک دن بعد کہ وہ غزہ کی پٹی کو مشرق وسطیٰ کا ریویرا بنانا چاہتے ہیں، اسرائیل نے اپنی فوج کو غزہ کے رہائشیوں کے رضاکارانہ انخلا کی اجازت دینے کے لئے تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔

ٹرمپ جنہوں نے اس سے قبل غزہ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کو مسترد کرنے سے انکار کر دیا تھا، نے اپنے ٹروتھ سوشل ویب پلیٹ فارم پر تبصروں میں اپنے منصوبوں کی وضاحت کی۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی کو اسرائیل جنگ کے اختتام پر امریکہ کے حوالے کر دے گا۔ فلسطینیوں کو پہلے ہی اس خطے میں نئے اور جدید گھروں کے ساتھ زیادہ محفوظ اور زیادہ خوبصورت برادریوں میں آباد کیا جا چکا ہوتا، انہوں نے کہا کہ امریکا کے کسی فوجی کی ضرورت نہیں ہوگی۔

قبل ازیں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی جانب سے ٹرمپ کی تجویز کی حمایت میں اضافے کے درمیان اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا تھا کہ انہوں نے فوج کو ایک منصوبہ تیار کرنے کا حکم دیا ہے جس کے تحت غزہ چھوڑنے کے خواہشمند افراد کو رضاکارانہ طور پر غزہ چھوڑنے کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ میں صدر ٹرمپ کے جرات مندانہ منصوبے کا خیرمقدم کرتا ہوں، غزہ کے رہائشیوں کو ملک چھوڑنے اور ہجرت کرنے کی آزادی دی جانی چاہیے، جیسا کہ دنیا بھر میں معمول ہے۔

کاٹز نے کہا کہ ان کے منصوبے میں لینڈ کراسنگ کے ذریعے باہر نکلنے کے آپشنز کے ساتھ ساتھ سمندر اور ہوائی راستے سے روانگی کے لئے خصوصی انتظامات شامل ہوں گے۔

ٹرمپ کا غیر متوقع اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور حماس غزہ کے لیے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر دوحہ میں مذاکرات کا آغاز کریں گے جس کا مقصد اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا اور جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

سعودی عرب نے اس تجویز کو یکسر مسترد کردیا اور اردن کے شاہ عبداللہ، جو اگلے ہفتے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملاقات کریں گے، کہا کہ وہ زمین کو ضم کرنے اور فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔

غزہ میں اپنے چار بچوں اور خاندان کے ہمراہ گھر کے کھنڈرات میں رہنے والے عبدالغنی نے کہا کہ ہم اپنی زمین فروخت نہیں کریں گے۔

عبدالغنی نے مزید کہا کہ ہم بھوکے، بے گھر اور مایوس ہیں اگر ٹرمپ واقعی ہماری مدد کرنا چاہتا ہے تو وہ یہاں آ کر ہمارے ساتھ غزہ کی تعمیر نو میں حصہ لے۔

واضح رہے کہ فلسطینیوں کی نقل مکانی خطے میں ایک دیرینہ اور حساس مسئلہ رہا ہے، اور بہت سے لوگ ٹرمپ کی تجویز کو جبری منتقلی کی پالیسیوں کو جاری رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں، جس پر 1949 کے جنیوا کنونشن کے تحت پابندی عائد ہے۔

کچھ اسرائیلی سیاست دانوں بشمول سابق جنرل جیورا ایلنڈ نے منتقلی کے خیال کی حمایت کرتے ہوئے اسے منطقی قرار دیا تھا لیکن دوسروں کی جانب سے اس نقطہ نظر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور بہت سے فلسطینی علاقے کے اندر تحفظ حاصل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ تاہم، مستقل نقل مکانی کا وسیع پیمانے پر خوف ہے، 1948 میں "نقبہ" اسرائیلی ریاست کے قیام کو فلسطینی آج تک نہیں بھولے ہیں۔

بین الاقوامی تنقید کے جواب میں کاٹز نے تجویز پیش کی کہ اسپین، آئرلینڈ اور ناروے جیسے ممالک جنہوں نے غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کی مخالفت کی ہے، انہیں بے گھر فلسطینیوں کو پناہ دینی چاہیے کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ یہ ممالک اسرائیل کے خلاف الزامات عائد کرنے کے بعد غزہ کے رہائشیوں کو پناہ دینے کے قانونی طور پر پابند ہیں۔

ٹرمپ کی جانب سے جنگ زدہ غزہ کی پٹی کا کنٹرول امریکہ کے حوالے کرنے کی تجویز نے کچھ ریپبلکنز میں الجھن اور شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے جبکہ دیگر نے ان کے جرات مندانہ اور فیصلہ کن نقطہ نظر کی حمایت کی ہے۔

اس تجویز کی بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی ہے اور بعض ریپبلکن قانون سازوں نے اختلاف رائے کا اظہار کیا ہے، جنہوں نے بڑے پیمانے پر ٹرمپ کے سابقہ اقدامات کی حمایت کی ہے، جس میں غیر ملکی امداد روکنا اور وفاقی ملازمین کی تعداد میں کمی کرنا شامل ہے۔

قانون سازوں نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے لیے دیرینہ دو ریاستی حل کی حمایت پر زور دیا اور کچھ لوگوں نے امریکی ٹیکس دہندگان کے فنڈز کے استعمال یا ایک سال سے زائد عرصے سے جاری تنازعے سے تباہ حال خطے میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی مخالفت کی۔

ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے ایکس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں ہم نے پہلے امریکا کو ووٹ دیا ہے، ہمیں مزید فوجی مہم پر غور کرنے کا کوئی حق نہیں جس سے ہمارا خزانہ اور خون دونوں ضائع ہوں گے۔

کانگریس میں محدود اکثریت رکھنے والے ریپبلکنز کو ڈیموکریٹس کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے اور سینیٹر کرس وان ہولین نے اس تجویز کو دوسرے نام سے نسلی صفائی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

ریپبلکن سینیٹر جیری مورن نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دو ریاستی حل کو یکطرفہ طور پر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا یکطرفہ فیصلہ کیا جا سکے۔

سینیٹر لیزا مرکووسکی نے اس تجویز پر قیاس آرائیاں کرنے میں ہچکچاہٹ کا اظہار کرتے ہوئے طویل عرصے سے افراتفری سے دوچار خطے میں امریکی افواج بھیجنے کے خطرات کو اجاگر کیا۔.

تاہم ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے ٹرمپ کے منصوبے کی تعریف کرتے ہوئے اسے خطے کے امن کو محفوظ بنانے کی کوشش کے لیے ایک جرات مندانہ اور فیصلہ کن اقدام قرار دیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کے حوالے کر غزہ کی پٹی کی جانب سے کرتے ہوئے اس تجویز کی حمایت کی فوجی ٹرمپ کے کے بعد جنگ کے غزہ کے دیا ہے

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان