سٹی42:  پنجاب بھر میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی احتجاج کرنے اور یوم سیاہ منانے کی کال عمومی طور پر ناکام ہو گئی۔ لاہور، ہارون آباد اور ملتان میں تین چھوٹی ریلیاں نکالے جانے کے سوا کسی جگہ سے پی ٹی آئی کے کارکنوں کی کوئی احتجاج کرنے کی کوشش رپورٹ نہیں ہوئی۔  

پندرہ جنوری کو  پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ پی ٹی آئی کے بانی نے 8 فروری کو یومِ سیاہ منانے کی ہدایت کی تھی۔ آج 8 فروری کو پاکستان میں آٹھ فروری  2024 کو ہونے والے عام انتخابات کی سالگرہ تھی۔ ان انتخابات کے متعلق پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ان میں پی ٹی آئی کے ساتھ دھاندلی ہوئی تھی اور  جمعیت علما اسلام کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں اس کے امیدواروں کے ساتھ دھاندلی کر کے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو جتوا دیا گیا تھا۔ آج آٹھ فروری کو پی ٹی آئی اور جمعیت عملا اسلام دونوں نے یوم سیاہ منایا لیکن پنجاب میں دونوں جماعتوں کی سڑکوں پر موجودگی کہیں دکھائی نہیں دی۔

جاپانی وزیراعظم کی ٹرمپ سے ملاقات؛ جاپان کو بھی ٹرمپ ٹیرف کی وارننگ مل گئی

اس ہدایت کو لے کر پی ٹی آئی کے رہنما 8 فروری کو یوم سیاہ منانے کے متعلق مسلسل بیانات دیتے رہے لیکن 7 فروری کو پنجاب میں پی ٹی آئی کی چیف آرگنائزر  عالیہ حمزہ نے یہ اعلان کر کے حیران کر دیا کہ پی ٹی آئی شمالی پنجاب کے دس اضلاع کے کارکنوں کو 8 فروری کو احتجاج کے لئے اپنے شہروں  میں کچھ کرنے کی بجائے خیبر پختنوخوا کے شہر صوابی میں ہونے والے جلسہ میں شریک ہونے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ 

جمنا کو صاف کر کے دم لیں گے، انسانوں سے ووٹ لے کر مودی نے دریا کی سیوا کرنے کا نعرہ لگا دیا

عالیہ حمزہ نے پی ٹی آئی کے تمام عہدیداروں کو صوبائی اور قومی اسمبلی کے حلقوں کی سطح پر کارکنوں کو اکٹھا کر کے احتجاجی ریلیاں نکالنے کی ہدایت بھی کی تھی۔ اس ہدایت پر لاہور اور دیگر شہروں میں عمل ہوتا دکھائی نہیں دیا۔ لاہور میں صرف حماد اظہر کی ریلی کی رپورٹ آئی جب کہ ملتان میں مہر بانو قریشی کی قیادت میں ایک ریلی نکالی گئی جس کے نتیجہ میں مہربانو قریشی کو ان کے کچھ ساتھیوں کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا کیونکہ صوبہ پنجاب میں آج سیکشن 144 نافذ تھی اور سڑکوں پر کسی بھی طرح کے جلسے جلوس کی ممانعت تھی۔

دہلی کے ریاستی انتخابات میں  عام آڈمی کا صفایا، بھارتیہ جنتا پارٹی کی اقتدار میں واپسی

ملتان  سے آمدہ اطلاعات کے مطابق دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر پی ٹی آئی رہنما مہربانو قریشی کو  دو ساتھی رہنماؤں اور دس کارکنوں سمیت گرفتار کرلیا گیا۔

 پولیس کے مطابق  جاوید ہاشمی کے داماد زاہد بہار ہاشمی اور ملتان سے پی ٹی آئی کےٹکٹ ہولڈر دلیر مہار کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

 پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ تینوں افراد کو پل چٹھہ سے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا جبکہ ریلی نکالنے پر پی ٹی آئی کے 10سے زائد کارکن بھی گرفتار کرلیے گئے۔  میڈیا اطلاعات کے مطابق مہربانو ایک ریلی لے کر مخدوم رشید کی جانب سے آ رہی تھیں، پولیس نے پل چٹھہ پر انہیں روک کر  مہربانو اور ان کے ساتھ موجود دو رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔ بعض کارکنوں نے پولیس کی گاڑی کو گھیرا ڈال لیا جس کے بعد مزید کچھ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ 

مارکیٹ میں دستیاب 100 سے زائد ادویات غیرمعیاری قرار

 پولیس نے ریلی کے شرکاء پر دھاوا بولا تو  دونوں رہنماؤں اور چند کارکنوں کی گرفتاری کے بعد  باقی کارکن منتشر ہوگئے۔

 تحریک انصاف کی طرف سے دی گئی آج احتجاج کی کال کے پیش نظر چوک گھنٹہ گھر، چونگی نمبر 9، نواں شہر چوک اور چوک کچہری سمیت مختلف چوک پر پولیس کی نفری تعینات رہی، مختلف چوراہوں پر قیدی وینز بھی موجود رہیں۔

لاہور سے عثمان خادم  نے  رپورٹ کیا کہ  پی ٹی آئی  کے مرکزی رہنما حماد اظہر   میدان میں آگئے، انہوں نے پی پی 161  میں  ایک احتجاجی ریلی کی قیادت کی۔ اس ریلی میں عثمان خادم کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ رکن پنجاب اسمبلی فرخ جاوید مون سمیت دیگر مقامی رہنمائوں نے بھی اس ریلی میں شرکت کی۔

رات کو موصولہ اطلاعات کے مطابق ہارون آباد میں پی ٹی آئی کے رہنما شوکت بسرا کی قیادت میں ایک ریلی نکالی گئی۔ اس ریلی میں شرکت کرکے سیکشن 144 کی وائلیشن کرنے ، سڑک بلاک کرنے  پر پولیس نے شوکت بسرا اور ان کے 24 کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا، ان میں سے  16 کو نامعلوم بتایا گیا ہے۔

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: یوم سیاہ یوم سیاہ یوم سیاہ میں پی ٹی ا ئی پی ٹی ا ئی کے گرفتار کر یوم سیاہ فروری کو کے مطابق کے ساتھ

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ

اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔

سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار