٭موت کی چکی میں رکھا گیا، سیل کی بجلی تک بند کر دی گئی،عدلیہ پر قبضے کے لیے پارلیمنٹ سے 26 ویں آئینی ترمیم کروائی گئی، ظلم و جبر کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو بند کرنے کے لیے پیکا کا اطلاق کیا گیا

٭کورٹ پیکنگ کا مقصد انسانی حقوق کی پامالیوں اور انتخابی فراڈ کی پردہ پوشی اور ان کے خلاف مقدمات میں من پسند فیصلوں کے لیے ’پاکٹ ججز‘ بھرتی کرنا ہے ، عدلیہ میں کوئی شفاف فیصلے دینے والا نہیں ہے ، خط کا متن

سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو دوسرا کھلا خط لکھ دیا جس میں انہوں نے کہا کہ گن پوائنٹ پر 26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتی نظام پر قبضہ کیا گیا جب کہ مجھے موت کی چکی میں رکھا گیا ہے اور 20 دن تک مکمل لاک اپ میں رکھا گیا جہاں سورج کی روشنی تک نہیں پہنچتی تھی۔تفصیلات کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کو لکھے گئے دوسرے کھلے خط میں کہا ہے کہ انہوں نے ملک و قوم کی بہتری کی خاطر نیک نیتی سے آرمی چیف کے نام کھلا خط لکھا۔عمران خان نے کہا کہ خط کا مقصد فوج اور عوام کے درمیان دن بدن بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کرنا ہے ، خط کا جواب انتہائی غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری سے دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے مقبول اور بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، انہوں نے اپنی ساری زندگی عالمی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کرنے میں گزاری ہے اور ان کا جینا مرنا صرف پاکستان میں ہے ۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ انہیں صرف اور صرف اپنی فوج کے تاثر اور عوام اور فوج کے درمیان بڑھتی خلیج کے ممکنہ مضمرات کی فکر ہے جب کہ انہوں نے جن 6 نکات کی نشاندہی کی ہے ان پر اگر عوامی رائے لی جائے تو 90 فیصد عوام ان نکات کی حمایت کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ان نکات میں ایجنسیز کے ذریعے پری پول دھاندلی اور الیکشن کے نتائج تبدیل کر کے اردلی حکومت قائم کرنا، عدلیہ پر قبضے کے لیے پارلیمنٹ سے گن پوائنٹ پر 26ویں آئینی ترمیم کروانا، پاکٹ ججز بھرتی کرنا جب کہ ظلم و جبر کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو بند کرنے کے لیے پیکا جیسے کالے قانون کا اطلاق کرنا شامل ہیں۔آرمی چیف کو لکھے گئے خط کے مطابق ان نکات میں سیاسی عدم استحکام اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی ریت ڈال کر ملک کی معیشت کی تباہی، ملک کی سب سی بڑی سیاسی جماعت کو مسلسل ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنانا، تمام ریاستی اداروں کا اپنے فرائض چھوڑ کر سیاسی انجینئرنگ اور سیاسی انتقام میں شامل کرنا شامل ہے جو عوامی جذبات کو مجروح عوام اور فوج میں خلیج کو بھی مسلسل بڑھا رہا ہے ۔عمران خان نے لکھا کہ پہلے اڈیالہ جیل کے فرض شناس سپرنٹنڈنٹ اکرم کو اغوا کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا، وہ قانون کی پاسداری کرتا تھا اور جیل قوانین پر عمل درآمد کرتا تھا، اب بھی تمام عملے کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ بنیادی انسانی حقوق پامال کرتے ہوئے دباؤ بڑھانے کے لیے ایک کرنل کے ماتحت جیل انتظامیہ نے مجھ پر ہر ظلم کیا، مجھے موت کی چکی میں رکھا گیا ہے ، 20دن تک مکمل لاک اپ میں رکھا گیا جہاں سورج کی روشنی تک نہیں پہنچتی تھی اور پانچ روز تک ان کے سیل کی بجلی بند رکھی گئی، مکمل اندھیرے میں رہا جب کہ ورزش کرنے والا سامان اور ٹی وی تک لے لیا گیا اور اخبار بھی پہنچنے نہیں دیا گیا۔خط میں انہوں نے کہا کہ ان 20دنوں کے علاوہ انہیں دوبارہ بھی 40گھنٹے لاک اپ میں رکھا گیا، ان کے بیٹوں سے پچھلے 6 ماہ میں صرف 3 مرتبہ بات کروائی گئی ہے اور اس معاملے میں بھی عدالت کا حکم نہ مانتے ہوئے بچوں سے بات کرنے نہیں دی جاتی۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ تحریک انصاف کے افراد دور دراز علاقوں سے ملاقات کے لیے آتے ہیں مگر ان کو بھی عدالتی آرڈز کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں ملتی، پچھلے 6 ماہ میں گنتی کے چند افراد کو ہی ملوایا گیا ہے ۔انہوں نے خط میں کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح احکامات کے باوجود بشریٰ بی بی سے ملاقات نہیں کروائی جاتی، بشریٰ بی بی کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے ۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گن پوائنٹ پر کروائی گئی 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتی نظام پر قبضہ کیا گیا، کورٹ پیکنگ کا مقصد انسانی حقوق کی پامالیوں اور انتخابی فراڈ کی پردہ پوشی اوران کے خلاف مقدمات میں من پسند فیصلوں کے لیے ’پاکٹ ججز‘ بھرتی کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں کوئی شفاف فیصلے دینے والا نہیں ہے ، ان کے سارے کیسز کے فیصلے دباؤ کے ذریعے دلوائے جارہے ہیں اور انہیں غیرقانونی طور پر 7سزائیں دلوائی گئی ہیں۔خط میں مزید کہا گیا کہ ان کے خلاف فیصلہ دینے کے لیے جج صاحبان پر اتنا دباؤ ہوتا ہے کہ ایک جج کا بلڈ پریشر 5مرتبہ ہائی ہوا اور اسے جیل ہسپتال میں داخل کروانا پڑا جب کہ اس جج نے ان کے وکیل کو بتایا کہ انہیں اور بشریٰ بی بی کو سزا دینے کے لیے ’اوپر‘ سے شدید ترین دباؤ ہے۔ واضح رہے کہ 3 فروری کو عمران خان نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو کھلا خط لکھ کر ان سے پالیسیوں میں تبدیلی کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ساری چیزوں کا نزلہ فوج پر گررہا ہے ، 2024 کا الیکشن، 26ویں آئینی ترمیم، پیکا ایکٹ فوج اور عوام کے درمیان فاصلے کی وجوہات ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا

تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔

تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا: سہیل آفریدی
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن